اسلام کا اقتصادی نظام

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 162

اسلام کا اقتصادی نظام — Page 129

۔چشموں پر قبضہ کیا ہوا ہے تو روس کا مطالبہ بھی تو اس بات کا ثبوت ہے کہ اقتصادیات میں کمیونزم پرانے امپیریلسٹک کی پالیسی والے ملکوں سے کوئی جدا گانہ راہ نہیں رکھتا اور وہ بھی غیر ملکوں سے مساوات کا سلوک کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔اگر وہ مساوات کے لئے تیار ہے تو کیا اگر ایرانی یہ مطالبہ کریں کہ ہمیں باکو کے چشموں سے فائدہ اُٹھانے دیا جائے تو روسی کہیں گے بہت اچھا آجاؤ اور باکو کے چشموں پر قبضہ کرلو؟ اگر مساوات کا سلوک کیا جاتا تو ایران سے کہا جاتا کہ تمہارا بھی حق ہے کہ مجھ سے مانگو اور میرا بھی حق ہے کہ میں تم سے مانگوں مگر روس اس طرف آتا ہی نہیں اور ابھی تو یہ ابتداء ہے جب کمیونزم کی صنعت وحرفت بڑھے گی دوسرے ملک اس طرح چلائیں گے کہ پہلے کبھی نہیں چلائے اور اس سے زیادہ ان کی صنعت کو کچلا جائے گا جس قدر کہ پہلے کبھی کچلا گیا۔کیونکہ کمیونزم نے صرف فردی کیپٹلزم کو کچلا ہے اجتماعی کیپٹلزم کو نہیں بلکہ اجتماعی کیپیٹلزم کو اس قدر طاقت دے دی ہے کہ اس سے پہلے اسے کبھی نصیب نہیں ہوئی اور اجتماعی کیپٹلوم ہی سب سے زیادہ خطر ناک شے ہے۔امریکہ نے ٹرسٹ سسٹم اور کارٹل سسٹم کے خلاف قانون اسی لئے پاس کیا ہے۔ایک خطر ناک کیپٹلزم کا اجراء اور اُس کے انسداد کی دو صورتیں اقتصادی تجربہ اس بات کا شاہد ہے کہ انفرادی تاجر کبھی اتنے کامیاب نہیں ہوئے جس قدر کہ کمپنیاں۔اور کمپنیاں کبھی اتنی کامیاب نہیں ہوئیں جس قدر کہ ٹرسٹ۔اور ٹرسٹ کبھی اتنے کامیاب نہیں ہوئے جس قدر کہ کارٹل۔اور کارٹل کبھی اتنے کامیاب نہیں ہوئے جس قدر کہ وہ کمپنیاں کامیاب ہوں گی جن کے پیچھے سارے ملک کی دولت اور سیاست ہوگی 129)