اسلام کا اقتصادی نظام — Page 131
اسلام کا اقتصادی زن ہے۔کمیونزم نے ملکی اجتماعی کیپٹلزم کا طریق جاری کر کے جس میں سارے ملک کی دولت اور اس کی سیاسی برتری مجموعی طور پر دوسرے ملکوں کے منفرد صناعوں اور تاجروں کے مقابل پر کھڑی ہوتی ہے ایک ایسا طریق رائج کیا ہے جو دنیا کے اقتصادی نظام کو بالکل تہہ و بالا کر دے گا۔لوگ ٹرسٹوں اور کارٹلز کے خلاف شور مچارہے تھے اور ان کے ظلموں کے شا کی تھے مگر کمیونزم نظام کے ماتحت ترقی کرنے والی صنعت وحرفت تمام دوسرے ملکوں کے لئے ایسی خطرناک ثابت ہوگی کہ اس کے مقابلہ پر ٹرسٹ تو کیا کارٹلز بھی ایسے معلوم ہوں گے جیسے ایک دیو کے مقابلہ پر ایک پانچ سالہ لڑکا۔انگلستان کا ایک بڑا تاجر امریکہ کے ایک بڑے تاجر کا مقابلہ تو کر سکتا تھا اگر مقابلہ نہ ہوسکتا تھا تو انگلستان کے چند تا جرمل کر ایک ٹرسٹ بنا لیتے تھے۔اگر جرمنی کی سائنٹیفک مصنوعات کا مقابلہ امریکہ اور انگلستان کے صناعوں کے لئے مشکل ہوتا تو دونوں ملکوں کے تاجر مل کر ایک کارٹل کے حصہ دار ہو جاتے تھے مگر کمیونزم کی صنعت کا مقابلہ کوئی زبر دست سے زبر دست کارٹل بھی کس طرح کر سکتا ہے کیونکہ کمیونزم کے ترقی یافتہ کارخانوں کی مدد پر ایک یا دو تاجر نہ ہوں گے بلکہ سب ملک کی دولت ہوگی اور تاجروں کی دولت ہی نہ ہوگی روس کی ڈپلومیٹک فوج اور لڑنے والی فوج اور اس کا بحری بیڑا بھی ہوگا کیونکہ اس کے کارخانہ کی ناکامی کسی ایک فرد یا کمپنی کی نا کامی نہ ہوگی بلکہ خود روسی حکومت کی ناکامی ہوگی۔کیونکہ کمیونزم کے نظام صنعت و حرفت کے کارخانے حکومت کے قبضہ اور انتظام میں ہوں گے۔پس جس صنعت کو یہ مدد حاصل ہوگی اس کا مقابلہ غیر ملکوں کے تاجر یا ٹرسٹ یا کئی ملکوں کے اشتراک سے بنے ہوئے کارٹلز بھی کس طرح کر سکتے ہیں۔پس رشین کمیونزم نے ایک نہایت خطر ناک کیپیٹلزم کا راستہ کھولا ہے جس کی مثال اس 131)