اسلام کی کتب (تیسری کتاب) — Page 12
صدقۃ الفطر ایک صاع غلہ یعنی ہو نے تین سیر انگریزی یا اس کی قیمت مقترر ہے۔گندم سے نصف صاع یعنی ایک سیر چھ چھٹانک بھی جائز ہے۔قربانی عید الاضحی کے بعد قربانی کرنا سنت ہے۔جو لوگ قربانی کرنے کی توفیق رکھتے ہیں اُن کو ضرور قربانی کرنا چاہیئے۔قربانی سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔اور غرباء ومساکین بھی اس سے فائدہ حاصل کرتے ہیں۔قربانی اونٹ۔گائے۔دُنبہ۔بھیڑ۔بکری وغیرہ کی ہوسکتی ہے۔بھینس کی قربانی کرنا بھی جائز ہے۔اونٹ پانچ برس کا ہونا چاہئیے۔اور اس کی قربانی میں سانگے آدمی یا دنیا آدمی بھی شریک ہو سکتے ہیں۔گائے دوندی (دو سال کے بعد گائے دوندی ہوتی ہے ) ہونی چاہیئے۔اس کی قربانی میں بھی سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں۔دُنبہ۔بھیڑ۔بکری بھی دوندی ایک سال کے بعد دوندے ہوتے ہیں ) ہونی چاہئیں۔بکری وغیرہ کی قربانی ایک آدمی کی طرف سے ہی ہوتی ہے۔بیمار ہنگڑے، سینگ ٹوٹے ، کان کٹے اور بھینگے وغیرہ جانور کی قربانی ناجائز ہے۔[12]