اسلام کی کتب (تیسری کتاب) — Page 13
قربانی عید الاضحی کے بعد کرنی چاہیے۔اگر کوئی عید الاضعی سے پہلے کر دیا تو وہ قربانی نہیں ہوگی۔عید کے دن کے علاوہ ایام تشریق (۱۱-۱۲-۱۳ ذی الحجہ ) میں بھی قربانی ہو سکتی ہے۔قربانی کی کھال اور گوشت خواہ گھر میں استعمال کیا جائے۔یا غرباء ومساکین اور اقارب میں تقسیم کیا جائے سب طرح جائز ہے۔لیکن قربانی کی کوئی چیز فروخت کرنا جائز نہیں۔قربانی کا گوشت سکھا لینا۔اور پھر اُس کو بعد میں استعمال کر لینا بھی جائز ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام آج سے تین چار ہزار سال قبل عراق عرب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام پیدا ہوئے۔آپ کا باپ آذر بت پرست اور مشرک تھا۔اور بت فروشی کا کام کرتا تھا۔جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کچھ ہوش سنبھالا تو آپ کا باپ آذر آپ کو بت بیچنے کے لئے بھیجا کرتا تھا۔لیکن آپ اس بت کے گلے میں رسی ڈال لیتے تھے۔اور یہ کہا کرتے تھے کہ اس بت کو جو نہ نفع دے سکتا ہے اور نہ نقصان دے سکتا ہے۔کون خرید یگا"۔کیونکہ ابتداء سے ہی آپ کی فطرت میں توحید تھی۔جب آپ سن بلوغت نبوت کو پہنچے تو خدا تعالیٰ نے آپ کو نبوت سے سرفراز فرمایا جب آپ مبعوث ہوئے تو آپ نے بنوں کے خلاف وعظ کرنا شروع کیا۔اور [13]