اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 88
نیک نیتی اور ایمانداری کے اور کسی سبب سے ایسے استقلال کے ساتھ ابتدائے نزول وحی سے اخیر دم تک مستعد نہیں رہ سکتے تھے۔جو لوگ ہر وقت اُن کے پاس رہتے تھے اور جو اُن سے بہت کچھ ربط ضبط رکھتے تھے اُن کو بھی کبھی آپ کی ریا کاری کا شبہ نہیں ہوا۔“ (John Davenport۔An Apology for Mohammed and the Koran J۔Davy & Sons۔, London۔p۔139 (1869)) پھر لکھتا ہے کہ: ” یہ بات یقینی طور پر کامل سچائی کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اگر مغربی شہزادے مسلمان مجاہدین اور ترکوں کی جگہ ایشیا کے حکمران ہو گئے ہوتے تو مسلمانوں کے ساتھ اس مذہبی رواداری کا سلوک نہ کرتے جو مسلمانوں نے عیسائیت کے ساتھ کیا۔کیونکہ عیسائیت نے تو اپنے ان ہم مذہبوں کو نہایت تعصب اور ظلم کے ساتھ تشدد کا نشانہ بنایا جن کے ساتھ اُن کے مذہبی اختلافات تھے۔“ (ايضاً صفحه 82) پھر یہی جان ڈیون پورٹ لکھتا ہے کہ: ”اس میں کچھ شبہ نہیں کہ تمام منصفوں اور فاتحوں میں ایک بھی ایسا نہیں جس کی سوانح حیات محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی سوانح حیات سے زیادہ مفصل اور سچی ہو۔66 (ايضاً صفحه 82) پھر مائیکل ایچ ہاٹ ( Michael H۔Hart) اپنی کتاب A Ranking of the Most Influential Persons in History میں لکھتے ہیں کہ : دنیا پر اثر انداز ہونے والے لوگوں میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا نام پہلے نمبر کیلئے منتخب کرنا بعض پڑھنے والوں کو شاید حیرت زدہ کرے اور بعض اس پر سوال بھی اُٹھائیں گے۔لیکن تاریخ میں وہ واحد خص تھا جو کہ مذہبی اور دنیاوی ہر دو سطح پر انتہائی کامیاب تھا۔“ (Michael H۔Hart۔THE 100: A RANKING OF THE MOST INFLUENTIAL PERSONS IN HISTORY۔Carol publishing group۔, p۔3۔) 88