اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 87
اُس کے پاس ذرائع کتنے محدود ہیں اور اُس کے نتائج کتنے عظیم الشان ہیں تو آج کون ایسا شخص ملے گا جو محمد (ع) سے مقابلہ کرنے کی جسارت کرے۔دنیا کی شہرہ آفاق شخصیات نے صرف چند فوجوں، قوانین اور سلطنتوں کو شکست دی۔اور انہوں نے محض دنیاوی حکومتوں کا قیام کیا اور اُن میں سے بھی بعض طاقتیں اُن کی آنکھوں کے سامنے ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہوگئیں۔مگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے نہ صرف دنیا کی فوجوں، قوانین ، حکومتوں، مختلف اقوام اور نسلوں بلکہ دنیا کی کل آبادی کے ایک تہائی کو یکجا کر دیا۔مزید برآں اُس نے قربانگاہوں، خداؤں، مذاہب، عقائد، افکار اور روحوں کی تجدید کی۔محمد (ﷺ) کی بنیاد صرف ایک کتاب تھی جس کا حرف حرف قانون بن گیا۔اُس شخص نے ہر زبان اور ہر نسل کو ایک روحانی تشخص سے نوازا۔“ پھر لکھتا ہے: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ایک فلسفہ دان ، خطیب، پیغمبر، قانون دان، جنگجو، افکار پر فتح پانے والا، عقلی تعلیمات کی تجدید کرنے والا، بیسیوں ظاہری حکومتوں اور ایک روحانی حکومت کو قائم کرنے والا شخص تھا۔انسانی عظمت کو پرکھنے کا کوئی بھی معیار مقرر کر لیں، کیا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے بڑھ کر کبھی کوئی لیم شخص پیدا ا پیدا ہوا؟ (A۔De Lamartine۔History of Turkey (English Translation)۔D۔Appleton & Co۔, NY۔p۔154-155 (1855-7)) جان ڈیون پورٹ (John Davenport) لکھتا ہے کہ: کیا یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے کہ جس شخص نے حقیر و ذلیل بت پرستی کے بدلے، جس میں اُس کے ہم وطن یعنی اہل عرب مبتلا تھے، خدائے برحق کی پرستش قائم کر کے بڑی بڑی ہمیشہ رہنے والی اصلاحیں کیں، وہ جھوٹا نبی تھا؟ کیا ہم اس سرگرم اور پُر جوش مصلح کو فریبی ٹھہرا سکتے ہیں اور یہ کہہ سکتے ہیں کہ ایسے شخص کی تمام کارروائیاں مکر پر بنی تھیں؟ نہیں ، ایسا نہیں کہہ سکتے۔بیشک محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) بجز دلی 87