اسلام اور آزادیء ضمیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 86 of 102

اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 86

پھر لکھتا ہے کہ: "معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس محسنہ کے ساتھ انتہائی پیار بھری، پرسکون اور بھر پور زندگی بسر کی۔وہ خدیجہ سے حقیقی پیار کرتے تھے اور صرف اُسی کے تھے۔اس کو جھوٹا نبی کہنے میں یہ حقیقت روک ہے کہ آپ نے زندگی کا یہ دور اس انداز سے گزارا کہ اس پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا۔یہ دور انتہائی سادہ اور پُر سکون تھا یہاں تک کہ آپ کی جوانی کے دن گزر گئے۔“ (Thomas Carlyle۔On Heroes, Hero-Worship and the Heroic in History Wiley and Putnam۔, NY۔p۔48 (1846)) پھر Thomas Carlyle ہی لکھتے ہیں کہ: ہم لوگوں یعنی عیسائیوں میں جو یہ بات مشہور ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک پرفن اور فطرتی شخص اور جھوٹے دعویدار نبوت تھے اور ان کا مذہب دیوانگی اور خام خیالی کا ایک تو وہ ہے، اب یہ سب باتیں لوگوں کے نزدیک غلط ٹھہرتی چلی جاتی ہیں۔کہتا ہے ” جو جھوٹ باتیں متعصب عیسائیوں نے اس انسان کی نسبت بنائی تھیں اب وہ الزام قطعاً ہماری روسیاہی کا باعث ہے اور جو باتیں اس انسان نے اپنی زبان سے نکالی تھیں، بارہ سو برس سے اٹھارہ کروڑ آدمیوں کے لئے بمنزلہ ہدایت کے قائم ہیں اس وقت جتنے آدمی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتقاد رکھتے ہیں اس سے بڑھ کر اور کسی کے کلام پر اس زمانے کے لوگ یقین نہیں رکھتے۔میرے نزدیک اس خیال سے بدتر اور ناخدا پرستی کا کوئی دوسرا خیال نہیں ہے کہ ایک جھوٹے آدمی نے یہ مذہب پھیلایا۔“ (Thomas Carlyle۔On Heroes, Hero-Worship and the Heroic in History۔Wiley and Putnam۔, NY۔pp۔60-1 (1846)) ایک فرنچ فلاسفر لا مانٹین (Lamartine) اپنی کتاب History of Turkey میں لکھتا ہے کہ: گر کسی شخص کی قابلیت کو پرکھنے کیلئے تین معیار مقرر کئے جائیں کہ اس شخص کا مقصد کتنا عظیم ہے، 86