اسلام اور آزادیء ضمیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 85 of 102

اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 85

سرٹامس کارلائل Sir Thomas Carlyle آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کے متعلق لکھتے ہیں کہ : ایک اور بات ہمیں ہرگز بھولنی نہیں چاہئے کہ اُسے کسی مدرسہ کی تعلیم میسر نہ تھی۔اس چیز کو جسے ہم سکول لرنگ (School Learning) کہتے ہیں، ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔لکھنے کا فن تو عرب میں بالکل نیا تھا۔یہ رائے بالکل سچی معلوم ہوتی ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کبھی خود نہ لکھ سکا۔اس کی تمام تر تعلیم صحراء کی بود و باش اور اس کے تجربات کے گرد گھومتی ہے۔اس لا محدود کائنات، اپنے تاریک علاقہ اور اپنی انہی مادی آنکھوں اور خیالات سے وہ کیا کچھ حاصل کر سکتے تھے؟ مزید حیرت ہوتی ہے جب دیکھا جائے کہ کتابیں بھی میسر نہ تھیں۔عرب کے تاریک بیابان میں سنی سنائی باتوں اور اپنے ذاتی مشاہدات کے علاوہ وہ کچھ بھی علم نہ رکھتے تھے۔وہ حکمت کی باتیں جو آپ سے پہلے موجود تھیں یا عرب کے علاوہ دوسرے علاقہ میں موجود تھیں، ان تک رسائی نہ ہونے کے باعث وہ آپ کے لئے نہ ہونے کے برابر تھیں۔ایسے حکام اور علماء میں سے کسی نے اس عظیم انسان سے براہِ راست مکالمہ نہیں کیا۔وہ اس بیابان میں تن تنہا تھے اور یونہی قدرت اور اپنی سوچوں کے محور میں پروان چڑھا۔“ (Thomas Carlyle۔On Heroes, Hero-Worship and the Heroic in History Wiley and Putnam۔, NY۔p۔47 (1846)) پھر آپ کی شادی کے بارے میں اور آپ کے گھر یلو تعلقات کے بارہ میں لکھتا ہے کہ: وہ کیسے خدیجہ کا ساتھی بنا؟ کیسے ایک امیر بیوہ کے کاروباری امور کا مہتم بنا اور سفر کر کے شام کے میلوں میں شرکت کی؟ اُس نے یہ سب کچھ کیسے کر لیا؟ ہر ایک کو بخوبی علم ہے کہ اُس نے یہ انتہائی وفاداری اور مہارت کے ساتھ کیا۔خدیجہ ( رضی اللہ عنہا) کے دل میں اُن کا احترام اور ان کے لئے شکر کے جذبات کیونکر پیدا ہوئے ؟ ان دونوں کی شادی کی داستان ، جیسا کہ عرب کے مصنفین نے ذکر کیا ہے، بڑی دلکش اور قابل فہم ہے۔محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی عمر 25 سال تھی اور خدیجہ کی عمر 40 سال تھی۔“ 85