اسلام اور آزادیء ضمیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 84 of 102

اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 84

محبت کے طور پر پیش کئے جاسکتے ہیں۔کسی بھی موقع پر یہ محبت بے محل نہ تھی، بلکہ ہر واقعہ اسی گرمجوش محبت کا آئینہ دار ہے۔“ پھر لکھتا ہے کہ: اپنی طاقت کے عروج پر بھی آپ منصف اور معتدل رہے۔آپ اپنے اُن دشمنوں سے نرمی میں ذرہ بھی کمی نہ کرتے جو آپ کے دعاوی کو بخوشی قبول کر لیتے۔مکہ والوں کی طویل اور سرکش ایذارسانیاں اس بات پر منتج ہونی چاہئے تھیں کہ فاتح مکہ اپنے غیظ وغضب میں آگ اور خون کی ہولی کھیلتا۔لیکن محمد (ﷺ) نے چند مجرموں کے علاوہ عام معافی کا اعلان کر دیا اور ماضی کی تمام تلخ یادوں کو یکسر بھلا دیا۔ان کے تمام استہزاء، گستاخیوں اور ظلم و ستم کے باوجود آپ نے اپنے سخت ترین مخالفین سے بھی احسان کا سلوک کیا۔مدینہ میں عبد اللہ اور دیگر منحرف ساتھی جو کہ سالہا سال سے آپ کے منصوبوں میں روکیں ڈالتے اور آپ کی حاکمیت میں مزاحم ہوتے رہے، ان سے در گزر کرنا بھی ایک روشن مثال ہے۔اسی طرح وہ نرمی جو آپ نے اُن قبائل سے برتی جو آپ کے سامنے سرنگوں تھے۔اور قبل ازیں جو فتوحات میں بھی شدید مخالف رہے تھے، ان سے بھی نرمی کا سلوک فرمایا “ (Sir William Muir۔Life of Muhammad۔(Volume IV)۔Smith, Elder and Company۔, London۔pp۔303-307 (1861)) پھر یہی ولیم میورلکھتا ہے کہ: یہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی سچائی کے لئے ایک تائیدی نشان تھا کہ جو بھی آپ پر اول اول ایمان لائے وہ اعلیٰ کردار کے مالک تھے۔بلکہ آپ کے قریبی دوست اور گھر کے افراد بھی ، جو کہ آپ کی ذاتی زندگی سے اچھی طرح واقف تھے آپ کے کردار میں وہ خامیاں نہ دیکھ سکے جو عام طور پر ایک منافق دھوکہ باز کے گھریلو تعلق اور باہر کے رویہ میں ہوتی ہیں۔“ (Sir William Muir۔Life of Muhammad۔(Volume II)۔Smith, Elder and Company۔, London۔pp۔97-8 (1861)) 84