اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 83
سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ آپ لکھنا نہیں جانتے تھے۔“ پھر یہی ولیم میورلکھتا ہے کہ: ایک اہم خوبی وہ خوش خلقی اور وہ خیال تھا جو آپ اپنے معمولی سے معمولی پیروکار کا رکھا کرتے۔حیا، شفقت، صبر ، سخاوت، عاجزی آپ کے اخلاق کے نمایاں پہلو تھے اور ان کے باعث آپ اپنے ماحول میں ہر شخص کو اپنا گرویدہ کر لیتے۔انکار کرنا آپ کو نا پسند تھا۔اگر کسی سوالی کی فریاد پوری نہ کر پاتے تو خاموش رہنے کو ترجیح دیتے۔کبھی یہ نہیں سنا کہ آپ نے کسی کی دعوت رڈ کی ہو خواہ وہ کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو۔اور کبھی یہ نہیں ہوا کہ آپ نے کسی کا پیش کیا ہوا تحفہ رد کر دیا ہوخواہ وہ کتناہی چھوٹا کیوں نہ ہو۔آپ کی ایک نرالی خوبی یہ تھی کہ آپ کی محفل میں موجود ہر شخص کو یہ خیال ہوتا کہ وہی اہم ترین مہمان ہے۔اگر آپ کسی کو اپنی کامیابی پر خوش پاتے تو گرمجوشی سے اس سے مصافحہ کرتے اور گلے لگاتے اور محروموں اور تکلیف میں گھرے افراد سے بڑی نرمی سے ہمدردی کا اظہار کرتے۔بچوں سے بہت شفقت سے پیش آتے اور راہ کھیلتے بچوں کو سلام کرنے میں کوئی عار محسوس نہ کرتے۔وہ قحط کے ایام میں بھی دوسروں کو اپنے کھانے میں شریک کرتے اور ہر ایک کی آسانی کے لئے ہمیشہ کوشش کرتے رہتے۔ایک نرم اور مہربان طبیعت آپ کے تمام خواص میں نمایاں نظر آتی تھی۔محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) ایک وفادار دوست تھا۔اس نے ابوبکر سے بھائی سے بڑھ کر محبت کی۔علی سے پدرانہ شفقت کی۔زید، جو آزاد کردہ غلام تھا، کو اس شفیق نبی سے اس قدر لگاؤ تھا کہ اس نے اپنے والد کے ساتھ جانے کی بجائے مکہ میں رہنے کو ترجیح دی۔اپنے نگر ان کا دامن پکڑتے ہوئے اس نے کہا، میں آپ کو نہیں چھوڑوں گا ، آپ ہی میرے ماں اور باپ ہیں۔دوستی کا یہ تعلق زید کی وفات تک رہا اور پھر زید کے بیٹے اسامہ سے بھی اس کے والد کی وجہ سے آپ نے ہمیشہ بہت مشفقانہ سلوک کیا۔عثمان اور عمر بھی آپ سے ایک خاص تعلق رکھتے تھے۔آپ نے حدیبیہ کے مقام پر بیعت رضوان کے وقت اپنے محصور داماد کے دفاع کے لئے جان تک دینے کا جو عہد کیا وہ اسی سچی دوستی کی ایک مثال ہے۔دیگر بہت سے مواقع ہیں جو کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی غیر متزلزل 83