اسلام اور آزادیء ضمیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 41 of 102

اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 41

امور سیاست کے ذریعے سے امن قائم رکھتے تھے مگر آنحضرت ﷺ کے وقت میں یہ دونوں عہدے خدا تعالیٰ نے آنجناب۔(یعنی آنحضرت ﷺ ہی کو عطا کئے اور جرائم پیشہ لوگوں کو الگ الگ کر کے باقی لوگوں کے ساتھ جو برتاؤ تھا وہ آیت مندرجہ ذیل سے ظاہر ہوتا ہے اور وہ یہ ہے وَقُلْ لِلَّذِيْنَ ء أوتُوا الْكِتَبَ وَالْأُمِّيِّينَ أَسْلَمْتُمْ - فَإِنْ أَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْا - وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلغُ (الجز نمبر سورة آل عمران ) اور اے پیغمبر اہل کتاب اور عرب کے جاہلوں کو کہو کہ کیا تم دین اسلام میں داخل ہوتے ہو۔پس اگر اسلام قبول کر لیں تو ہدایت پاگئے۔اور اگر منہ موڑیں تو تمہارا تو صرف یہی کام ہے کہ حکم الہی پہنچا دو۔اس آیت میں یہ نہیں لکھا کہ تمہارا یہ بھی کام ہے کہ تم ان سے جنگ کرو۔اس سے ظاہر ہے کہ جنگ صرف جرائم پیشہ لوگوں کیلئے تھا کہ مسلمانوں کو قتل کرتے تھے یا امن عامہ میں خلل ڈالتے تھے اور چوری ڈاکہ میں مشغول رہتے تھے۔اور یہ جنگ بحیثیت بادشاہ ہونے کے تھا، نہ بحیثیت رسالت۔( یعنی کہ جب آپ حکومت کے مقتدر اعلیٰ تھے تب جنگ کرتے تھے اس لئے نہیں کرتے تھے کہ نبی ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَقَاتِلُوا فِي سَبِيْلِ اللَّهِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا - إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ (الجزء نمبر ٢- سورة البقرة) " ( ترجمہ ) تم خدا کے راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں۔یعنی دوسروں سے کچھ غرض نہ رکھو اور زیادتی مت کرو۔خدا زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا“۔(چشمه معرفت، روحانی خزائن ، جلد ۲۳ - صفحه ۲۴۲ ۲۴۳) پس جس نبی پاک ﷺ پر یہ شریعت اتری ہے کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے پر اترے ہوئے احکامات کے معاملہ میں زیادتی کرتا ہو۔آپ ﷺ نے تو فتح مکہ کے موقع پر بغیر اس شرط کے کہ اگر اسلام میں داخل ہوئے تو امان ملے گی عام معافی کا اعلان کر دیا تھا۔اس کی ایک مثال ہم دیکھ بھی چکے ہیں۔اس کی مختلف شکلیں تھیں لیکن اس میں یہ نہیں تھا کہ ضرور اسلام قبول کرو گے تو معافی ملے گی۔مختلف جگہوں میں جانے اور داخل ہونے اور کسی کے جھنڈے کے نیچے آنے اور خانہ کعبہ میں جانے اور 41