اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 42
کسی گھر میں جانے کی وجہ سے معافی کا اعلان تھا۔اور یہ ایک ایسی اعلیٰ مثال تھی جو ہمیں کہیں اور دیکھنے میں نہیں آئی۔مکمل طور پر یہ اعلان فرما دیا کہ لا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْم کہ جاؤ آج تم پر کوئی گرفت نہیں ہے۔ہزاروں درود اور سلام ہوں آپ ﷺ پر جنہوں نے اپنے یہ اعلیٰ نمونے قائم فرمائے اور ہمیں بھی اس کی تعلیم عطا فرمائی۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عمل کرنے کی بھی توفیق دے۔“ از خطبه جمعه امارچ ۲۰۰۶ ء - مسجد بیت الفتوح لندن، بحوالہ اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور خاکوں کی حقیقت صفحہ ۹۲-۱۱۱) قیام امن اور غلط فہمیوں کے ازالہ کے لیے حضرت بانی جماعت احمدیہ کی اعلیٰ تعلیم اور تجویز مختلف مذاہب اور افراد کے لیے غلط فہمیوں کو دور کرنے اور آپس میں پیار ومحبت اور صلح و صفائی کے ساتھ رہنے کی خاطر حضرت بانی جماعت احمدیہ مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام نے جلسہ مذاہب کے انعقاد کی تجویز پیش فرمائی تھی۔چنانچہ آپ نے ملکہ وکٹوریہ کی ڈائمنڈ جوبلی کے موقعہ پر اسے یہ تجویز دیتے ہوئے فرمایا کہ: ہاں یہ ضروری ہوگا کہ اس جلسہ مذاہب میں ہر ایک شخص اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے دوسروں سے کچھ تعلق نہ رکھے۔“ تحفہ قیصریه، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۲۷۹) حضور علیہ السلام نے اس کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ بالعموم مذہبی لیڈر اور پادری صاحبان عوام کو غلط باتیں بتاتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے ان میں اشتعال پھیلتا ہے۔آپ مزید فرماتے ہیں کہ : اگر ان میں نیک نیتی ہوتی تو وہ قرآن پر ایسے اعتراض نہ کرتے جو موسیٰ کی توریت پر بھی ہو سکتے ہیں۔اگر ان کو خدا کا خوف ہوتا تو وہ ان کتابوں کو اعتراض کے وقت تمسک بہا نہ ٹھہراتے۔جو مسلمانوں کے نزدیک غیر مسلم اور یقینی سچائیوں سے خالی ہیں۔اس لئے انصاف یہی حکم دیتا ہے کہ اگر سارا یورپ فرشتہ سیرت بھی ہو مگر پادری اس سے مستثنیٰ ہیں۔یورپ کے عیسائی جو اسلام کو نفرت اور حقارت کی نظر 42