اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 40
تعلقات اور ایک دوسرے کی مدد کے کام کئے جائیں۔تلخیص از زاد المعاد في هدي خير العباده فصل في قدوم وفد نجران ) تو یہ تھے آپ ﷺ کے معیار مذہبی آزادی اور رواداری کے قیام کیلئے۔اس کے باوجود آپ پر ظلم کرنے اور تلوار کے زور پر اسلام پھیلانے کا الزام لگانا انتہائی ظالمانہ حرکت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: پس جبکہ اہل کتاب اور مشرکین عرب نہایت درجہ بدچلن ہو چکے تھے اور بدی کر کے سمجھتے تھے کہ ہم نے نیکی کا کام کیا ہے اور جرائم سے باز نہیں آتے تھے اور امن عامہ میں خلل ڈالتے تھے تو خدا تعالیٰ نے اپنے نبی کے ہاتھ میں عنان حکومت دے کر ان کے ہاتھ سے غریبوں کو بچانا چاہا۔اور چونکہ عرب کا ملک مطلق العنان تھا اور وہ لوگ کسی بادشاہ کی حکومت کے ماتحت نہیں تھے اس لئے ہر ایک فرقہ نہایت بے قیدی اور دلیری سے زندگی بسر کرتا تھا“۔( کوئی قانون نہیں تھا کیونکہ کسی کے ماتحت نہیں تھے اور چونکہ ان کیلئے کوئی سزا کا قانون نہ تھا۔اس لئے وہ لوگ روز بروز جرائم میں بڑھتے جاتے تھے۔پس خدا نے اس ملک پر رحم کر کے آنحضرت ﷺ کو اس ملک کیلئے نہ صرف رسول کر کے بھیجا بلکہ اس ملک کا بادشاہ بھی بنا دیا اور قرآن شریف کو ایک ایسے قانون کی طرح مکمل کیا جس میں دیوانی ، فوجداری ، مالی سب ہدایتیں ہیں۔سو آنحضرت ﷺ بحیثیت ایک بادشاہ ہونے کے تمام فرقوں کے حاکم تھے اور ہر ایک مذہب کے لوگ اپنے مقدمات آپ سے فیصلہ کراتے تھے۔قرآن شریف سے ثابت ہے کہ ایک دفعہ ایک مسلمان اور ایک یہودی کا آنجناب کی عدالت میں مقدمہ آیا تو آنجناب نے تحقیقات کے بعد یہودی کو سچا کیا اور مسلمان پر اس کے دعوی کی ڈگری کی۔(اس کا ذکر میں کر چکا ہوں۔پس بعض نادان مخالف جو غور سے قرآن شریف نہیں پڑھتے وہ ہر ایک مقام کو آنحضرت ﷺ کی رسالت کے نیچے لے آتے ہیں حالانکہ ایسی سزائیں خلافت یعنی بادشاہت کی حیثیت سے دی جاتی تھیں“۔(یعنی یہ حکومت کا کام ہے۔) بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ" کے بعد نبی جدا ہوتے تھے اور بادشاہ جدا ہوتے تھے جو 40