اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 16
ہونا چاہئے کہ بجائے صرف توڑ پھوڑ کے ہمیں اپنے جائزے لینے کی طرف توجہ پیدا ہونی چاہئے ، ہم دیکھیں ہمارے عمل کیا ہیں، ہمارے اندر خدا کا خوف کتنا ہے، اس کی عبادت کی طرف کتنی توجہ ہے، دینی احکامات پر عمل کرنے کی طرف کتنی توجہ ہے، اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کی طرف کتنی توجہ ہے۔پھر دیکھیں خلافت رابعہ کا دور تھا جب رشدی نے بڑی توہین آمیز کتاب لکھی تھی۔اس وقت حضرت خلیفہ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے خطبات بھی دیئے تھے اور ایک کتاب بھی لکھوائی تھی۔پھر جس طرح کہ میں نے کہا یہ حرکتیں ہوتی رہتی ہیں۔گزشتہ سال کے شروع میں بھی اس طرح کا ایک مضمون آیا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے بارہ میں۔اس وقت بھی میں نے جماعت کو بھی اور ذیلی تنظیموں کو بھی توجہ دلائی تھی کہ مضامین لکھیں خطوط لکھیں، رابطے وسیع کریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی خوبیاں اور ان کے محاسن بیان کریں۔تو یہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے حسین پہلوؤں کو دنیا کو دکھانے کا سوال ہے یہ توڑ پھوڑ سے تو نہیں حاصل ہو سکتا۔اس لئے اگر ہر طبقہ کے احمدی ہر ملک میں دوسرے پڑھے لکھے اور سمجھدار مسلمانوں کو بھی شامل کریں کہ تم بھی اس طرح پر امن طور پر یہ رد عمل ظاہر کر واپنے رابطے بڑھاؤ اور لکھو تو ہر ملک میں ہر طبقہ میں اتمام حجت ہو جائے گی اور پھر جو کرے گا اس کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔اللہ تعالیٰ نے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے۔جیسا کہ خود فرماتا ہے وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ ﴾ (سورة الانبياء ، آیت ۱۰۸) کہ ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لئے رحمت کے طور پر۔اور آپ سے بڑی ہستی ، رحمت بانٹنے والی ہستی نہ پہلے کبھی پیدا ہوئی اور نہ بعد میں ہوسکتی ہے۔ہاں آپ کا اُسوہ ہے جو ہمیشہ قائم ہے اور اس پر چلنے کی ہر مسلمان کو کوشش کرنی چاہئے۔اور اس کے لئے بھی سب سے بڑی ذمہ داری احمدی کی ہے ، ہم پر ہی عائد ہوتی ہے۔تو بہر حال آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو رحمۃ للعالمین تھے اور یہ لوگ آپ کی یہ تصویر پیش کرتے ہیں جس سے انتہائی بھیانک تصور ابھرتا ہے۔پس ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیار محبت اور رحمت کے اسوہ کو 16