اسلام اور آزادیء ضمیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 15 of 102

اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 15

طرف مسلمانوں میں ایک جوش تھا اور بڑا سخت رد عمل تھا۔اس پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ خلیفہ اسیح الثانی نے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے بھائیو! میں دردمند دل سے پھر آپ کو کہتا ہوں کہ بہادر وہ نہیں جولڑ پڑتا ہے۔وہ بزدل ہے کیونکہ وہ اپنے نفس سے دب گیا ہے“۔(اب یہ حدیث کے مطابق ہے کہ غصہ کو دبانے والا اصل میں بہادر ہوتا ہے۔فرمایا کہ ” بہادر وہ ہے جو ایک مستقل ارادہ کر لیتا ہے اور جب تک اسے پورا نہ کرے اس سے پیچھے نہیں ہٹتا۔آپ نے فرمایا اسلام کی ترقی کے لئے تین باتوں کا عہد کرو۔پہلی بات یہ کہ آپ خشیت اللہ سے کام لیں گے اور دین کو بے پرواہی کی نگاہ سے نہیں دیکھیں گے۔پہلے خود اپنے عمل ٹھیک کرو۔دوسرے یہ کہ تبلیغ اسلام سے پوری دلچسپی لیں گے۔اسلام کی تعلیم دنیا کے ہر شخص کو پتہ لگے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خوبیاں، محاسن خوبصورت زندگی پستہ لگے،اسوہ پتہ لگے۔تیسرے یہ کہ آپ مسلمانوں کو تمدنی اور اقتصادی غلامی سے بچانے کے لئے پوری کوشش کریں گے۔(انوار العلوم جلد نهم صفحه ۵۵۵-۵۵۶) اب ہر ایک مسلمان کا ، عام آدمی کا بھی ، لیڈروں کا بھی فرض ہے۔اب دیکھیں باوجود آزادی کے یہ مسلمان ممالک جو آزاد کہلاتے ہیں آزاد ہونے کے باوجود ابھی تک تمدنی اور اقتصادی غلامی کا شکار ہیں۔ان مغربی قوموں کے مرہون منت ہیں ان کی نقل کرنے کی طرف لگے ہوئے ہیں۔خود کام نہیں کرتے۔زیادہ تر ان پر ہمارا انحصار ہے۔اور اسی لئے یہ وقتا فوقتا مسلمانوں کے جذبات سے یہ کھیلتے بھی رہتے ہیں۔پھر آپ نے سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جلسے بھی شروع کروائے۔تو یہ طریقے ہیں احتجاج کے، نہ کہ توڑ پھوڑ کرنا فساد پیدا کرنا۔اور ان باتوں میں جو آپ نے مسلمانوں کو مخاطب کی تھیں سب سے زیادہ احمدی مخاطب ہیں۔ان ملکوں کی بعض غلط روایات غیر محسوس طریقہ پر ہمارے بعض خاندانوں میں داخل ہو رہی ہیں۔میں احمدیوں کو کہتا ہوں کہ آپ لوگ بھی مخاطب تھے۔یہ جو اچھی چیزیں ہیں ان کے تمدن کی وہ تو اختیار کریں لیکن جو غلط باتیں ہیں ان سے ہمیں بچنا چاہئے۔تو ہمارا ری ایکشن (Reaction) یہی 15