اسلام اور آزادیء ضمیر

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 17 of 102

اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 17

دنیا کو بتانا چاہئے اور ظاہر ہے اس کو بتانے کے لئے مسلمانوں کو اپنے رویے بھی بدلنے پڑیں گے۔دہشت گردی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو جنگ سے بچنے کی بھی ہمیشہ کوشش کی ہے۔جب تک کہ آپ پر مدینہ میں آ کر جنگ ٹھونسی نہیں گئی۔پھر بہر حال اللہ تعالیٰ کی اجازت سے دفاع میں جنگ کرنی پڑی۔لیکن وہاں بھی کیا حکم تھا کہ وَقَاتِلُوْا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا - إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ ﴾ (سورة البقرة: آیت (۱۹) کہ اے مسلمانو! الڑ واللہ کی راہ میں جو تم سے لڑتے ہیں مگر زیادتی نہ کرو یقینا اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ اپنے پر نازل ہونے والی شریعت پر عمل کرنے والے تھے۔ان کے بارہ میں ایسے نازیبا خیالات کا اظہار کرنا انتہائی ظلم ہے۔۔۔جماعت احمدیہ کی کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف فوری کارروائی دوسرے مسلمانوں کو تو یہ جوش ہے کہ ہڑتالیں کر رہے ہیں توڑ پھوڑ کر رہے ہیں کیونکہ ان کا رد عمل یہی ہے کہ توڑ پھوڑ ہو اور ہڑتالیں ہوں اور جماعت احمدیہ کا اس واقعہ کے بعد جو فوری رد عمل ظاہر ہونا چاہئے تھا وہ ہوا۔احمدی کا رد عمل یہ تھا کہ انہوں نے فوری طور ان پر اخباروں سے رابطہ پیدا کیا۔اور پھر یہ کوئی آج کی بات نہیں ہے کہ 2006ء کی فروری میں ہڑتالیں ہو رہی ہیں۔یہ واقعہ تو گزشتہ سال کا ہے۔ستمبر میں یہ حرکت ہوئی تھی تو اُس وقت ہم نے کیا کیا تھا۔یہ جیسا کہ میں نے کہا ستمبر کی حرکت ہے یا اکتوبر کے شروع کی کہہ لیں۔تو ہمارے مبلغ نے اس وقت فوری طور پر ایک تفصیلی مضمون تیار کیا اور جس اخبار میں کارٹون شائع ہوا تھا ان کو یہ بھجوایا اور تصاویر کی اشاعت پر احتجاج کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کے بارہ میں بتایا کہ یہ ہمارا احتجاج اس طرح ہے ہم جلوس تو نہیں نکالیں گے لیکن قلم کا جہاد ہے جو ہم تمہارے ساتھ کریں گے۔اور تصویر کی اشاعت پر اظہار افسوس کرتے ہیں۔اس کو بتایا کہ ضمیر کی آزادی تو ہو گی لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ دوسروں کی 17