اسلام اور آزادیء ضمیر — Page 14
نہیں بولا۔تو یہ تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غیرت رکھنے والے شیر خدا کار د عمل۔وہ للکارتے تھے ایسی حرکتیں کرنے والوں کو۔پھر ایک شخص لیکھر ام تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوگالیاں نکالتا تھا۔اس کی اس دریدہ دینی پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کو باز رکھنے کی کوشش کی۔وہ باز نہ آیا۔آخر آپ نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کی درد ناک موت کی خبر دی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارہ میں فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ایک دشمن اللہ اور رسول کے بارہ میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نکالتا ہے اور نا پاک کلمے زبان پر لاتا ہے جس کا نام لیکھرام ہے مجھے وعدہ دیا اور میری دعاسنی اور جب میں نے اس پر بددعا کی تو خدا نے مجھے بشارت دی کہ وہ 6 سال کے اندر ہلاک ہو جائے گا۔یہ ان کے لئے نشان ہے جو بچے مذہب کو ڈھونڈتے ہیں۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور وہ بڑی درد ناک موت مرا۔آنحضور ﷺ کا اسوہ حسنہ دنیا کے سامنے پیش کرو یہی اسلوب ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سکھائے کہ اس قسم کی حرکت کرنے والوں کو سمجھاؤ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے محاسن بیان کرو، دنیا کو ان خوبصورت اور روشن پہلوؤں سے آگاہ کرو جو دنیا کی نظر سے چھپے ہوئے ہیں اور اللہ سے دعا کرو کہ یا تو اللہ تعالیٰ ان کو ان حرکتوں سے باز رکھے یا پھر خود ان کی پکڑ کرے۔اللہ تعالیٰ کی پکڑ کے اپنے طریقے ہیں وہ بہتر جانتا ہے کہ اس نے کس طریقہ سے کس کو پکڑنا ہے۔پھر خلافت ثانیہ میں ایک انتہائی بے ہودہ کتاب ”رنگیلا رسول“ کے نام سے لکھی گئی۔پھر ایک رسالہ ”ورتمان نے ایک بیہودہ مضمون شائع کیا جس پر مسلمانان ہند میں ایک جوش پیدا ہو گیا۔ہر 14