مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 33 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 33

اپنے رُسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو آسمان پر نہیں لے جاتے اور نہ روحانی قربوں کے لئے اس کی کچھ ضرورت ہے۔مگر روحانی زندگی کے لحاظ سے ہم تمام نبیوں میں سے اعلیٰ درجے پر اپنے نبی صلے اللہ علیہ وسلم کو زندہ سمجھتے ہیں اور قرآن ِشریف آیت وَ ۱؎ میں اس زندگی کی طرف اشارہ فرماتا ہے کیونکہ اس کا یہی مطلب ہے کہ جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم سے باطنی فیض پایا ایسا ہی آخری زمانے میں ہو گا کہ مسیح موعود اور اس کی جماعت آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم سے فیض پائے گی جیسا کہ اب ظہور میں آ رہا ہے اور ایک بڑی دلیل اس بات پر کہ صرف ہمارے نبی صلے اللہ علیہ وسلم رُوحانی طور پر اعلیٰ زندگی رکھتے ہیں دوسرا کوئی نہیں رکھتا آپ کے تاثیرات اور برکات کا زندہ سلسلہ ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ سچے مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی سچی پیروی کر کے خدا تعالیٰ کے مکالمات سے شرف پاتے ہیں اور فوق العادت خوراق اُن سے صادر ہوتے ہیں اور فرشتے ان سے باتیں کرتے ہیں،دُعائیںان کی قبول ہوتی ہیں۔اس کا نمونہ ایک مَیں ہی موجود ہوں کہ کوئی قوم اس بات میں ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتی۔یہ تو دلیل حضرت محمد صلے اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر ہے مگر حضرت مسیح کی زندگی پر کون سی دلیل آپ کے پاس ہے۔اتنا بھی تو نہیں کہ کوئی پادری صاحب یا مسیح! یا مسیح!! کر کے پکاریں اور آسمان سے مسیح کی طرف سے کوئی ایسی آواز آوے کہ تمام لوگ سُن لیں اور اگر اس قدر ثبوت بھی نہیں تو محض دعویٰ قابل التفاف نہیں۔اس طرح پر تو سِکّھ صاحب بھی کہتے ہیں کہ بابا نانک صاحب زندہ آسمان پر چلے گئے۔پھر جب ہم ان سب باتوں سے الگ ہو کر تاریخی سلسلہ پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ سارے پردے درمیان سے اُٹھ کر کھلی کھلی حقیقت نظر آ جاتی ہے کیونکہ تاریخ نے حضرت مسیح علیہ السلام کے آسمان پر نہ جانے کے تین گواہ ایسے پیش کئے ہیں جن سے قطعی طور پر یہ فیصلہ ہو گیا ہے کہ بات صرف اتنی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السّلام اپنے اس قول کے مطابق کہ اُن کا قصّہ یونس نبی کے قصّے سے مشابہ ہے قبر میں مردہ ہونے کی حالت میں داخل نہیں ہو ئے تھے جیساکہ یونس نبی مچھلی کے پیٹ میں مردہ ہونے کی حالت میں داخل نہیں ہوا تھا اور نہ وہ قبر میں مرے جیسا کہ یونس نبی مچھلی کے پیٹ میں نہیں مرا تھا بلکہ یونس نبی ۱؎ الجمعۃ : ۴