مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 32
جواب دیا کہ ہمیں جسمانی رفع سے کچھ غرض نہیں۔ہم تو یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ شخص توریت کے رو سے ایماندار اور صادق نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ سُولی دیا گیا۔پس توریت فتویٰ دیتی ہے کہ اس کا رفع رُوحانی نہیں ہوا۔بمبئی اور کلکتہ میں بہت سے یہودی موجود ہیں جس سے چاہو پوچھ لو یہی جواب دے گا۔سو یہی وہ جھگڑا تھا جو فیصلہ کے لائق تھا۔خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان الفاظ سے اس جھگڑے کا فیصلہ کر دیا کہ َّ یعنی یہ کہ وفات کے بعد حضرت مسیح کا رفع ہوا ہے اور وہ ایمان داروں کے گروہ میں سے ہے نہ اُن میں سے جن پر آسمان کے دروازے بند ہوئے ہیں۔مگر جسمانی طور پر کسی کا آسمان میں جا بیٹھنا نجات کے مسئلہ سے کچھ بھی تعلق اس کو نہیں اور نہ کوئی قربِ الٰہی اس سے ثابت ہوتا ہے۔آجکل تو ثابت کیا گیا ہے کہ آسمان پر بھی مجسم مخلوق رہتے ہیں جیسے زمین پر۔تو کیا آسمان پر رہنے سے وہ سب نجات یافتہ ہیں۔باایں ہمہ یہ خیال سخت غیر معقول ہے کیونکہ اگر خدا تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ حضرت مسیح کے جسم کو آسمان پر پہنچا دے تو چاہیے تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کے جسم کے تمام ذرّات کو محفوظ رکھتا اور کوئی ذرّہ اُن کے جسم میں تلف ہونے نہ پاتا اور نہ تحلیل ہوتا۔تا یہ ظلم صریح لازم نہ آتا کہ بعض حصّے مسیح کے جسم کے تو خاک میں مل گئے اور بعض حصے آسمان پر اٹھائے گئے اور اگر مسیح کے جسم کے ذرّات تحلیل نہیں ہوئے تو کم سے کم صلیب کے وقت میں حضرت مسیح کا جسم پہلے جسم سے دس حصّے زیادہ چاہیے تھا کیونکہ علم طبعی کی شہادت سے یہی ثبوت ملتا ہے اور یہ ثابت شدہ امر ہے کہ تین برس کے بعد پہلے جسم کے اجزاء تحلیل ہو کر کچھ توہوا میں مل جاتے ہیںاور کچھ خاک ہو جاتے ہیں۔سو چونکہ مسیح نے تینتیس ۳۳برس کے عرصے میں دس جسم بدلے ہیں۔اس کے آخری جسم کو آسمان پر پہنچانا اور پہلے جسموں کو خاک میں ملانا یہ ایک ایسی بیہودہ حرکت ہے جس کی فلاسفی یقینابشپ صاحب کو بھی معلوم نہیں ہو گی۔اب جبکہ عقل اور انجیل اور قرآن شریف سے حضرت مسیح کا آسمان پر معہ جسم جانا ثابت نہیں بلکہ اس عقیدہ پر عقلی اور نقلی طور پر سخت اعتراضات کی بارش ہوتی ہے تو اس خیال کو پیش کرنا میرے نزدیک تو قابل شرم امر ہے کہ سچ ہے کہ لوگ اس طرح پر