مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 34 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 34

کی طرح زندہ ہی قبر میں داخل ہوئے اور زندہ ہی نکلے کیونکہ ممکن نہیں کہ مسیح نے اس مثال کے بیان کرنے میں جھوٹ بولا ہو۔اس واقعہ پر پہلا گواہ تو یہی مثال ہے کہ مسیح کے منہ سے نکلی کیونکہ اگر مسیح قبر میں مُردہ ہونے کی حالت میں داخل کیا گیا تھا تو اس صورت میں یونس سے اس کو کچھ مشابہت نہ تھی پھر دوسرا گواہ اس پر مرہم عیسیٰ ہے۔یہ ایک مرہم ہے جس کا ذکر عیسائیوں اور یہودیوں اور مجوسیوں اور مسلمانوں کی طبّ کی کتابوں میں اس طرح پر لکھا گیا ہے کہ یہ حضرت مسیح کے لئے یعنی ان کی چوٹوں کے لئے طیار کی گئی تھی اور یہ کتابیں ہزار نسخہ سے بھی کچھ زیادہ ہیں جن میں سے بہت سی میرے پاس بھی موجود ہیں۔پس اس مرہم سے جس کا نام مرہم عیسیٰ ہے۔یقینی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ آسمان پر جانے کا قصّہ غلط اور عوام کی خود تراشیدہ باتیں ہیں۔سچ صرف اس قدر ہے کہ حضرت مسیح صلیب پر وفات پانے سے تو بچ گئے تھے مگر آپ کے ہاتھوں اور پیروںپر زخم ضرور آئے تھے اور وہ زخم مرہم عیسیٰ کے لگانے سے اچھے ہو گئے۔آپ کے حواریوں میں سے ایک ڈاکٹر بھی تھا غالباً یہ مرہم اُس نے تیار کی ہو گی چونکہ مرہم عیسیٰ کا ثبوت ایک علمی پیرایہ میں ہم کو ملا ہے جس پر تمام قوموں کے کتب خانے گواہ ہیں۔اس لئے یہ ثبوت بڑے قدرکے لائق ہے۔تیسرا تاریخی گواہ حضرت مسیح کے آسمان پر نہ جانے کا یوز آسف کا قصہ ہے جو آج سے گیارہ سو برس پہلے تمام ایشیا اوریورپ میں شہرت پا چکا ہے۔یوز آسف حضرت مسیح ہی تھے جو صلیب سے نجات پا کر پنجاب کی طرف گئے اور پھر کشمیر میں پہنچے اور ایک سو برس کی عمر میں وفات پائی۔اس پر بڑی دلیل یہ ہے کہ یوز آسف کی تعلیم اور انجیل کی تعلیم ایک ہے اور دوسرے یہ قرینہ کہ یوز آسف اپنی کتاب کا نام انجیل بیان کرتا ہے تیسرا قرینہ یہ کہ اپنے تئیں شہزادہ نبی کہتا ہے چوتھا یہ قرینہ کہ یوز آسف کا زمانہ اور مسیح کا زمانہ ایک ہی ہے۔بعض انجیل کی مثالیںاس کتاب میں بعینہ موجود ہیںجیسا کہ ایک کسان کی مثال۔چوتھا تاریخی گواہ حضرت مسیح علیہ السّلام کی وفات پر وہ قبر ہے جو اب تک محلہ خانیار سری نگر کشمیر میں موجود ہے۔بعض کہتے ہیں کہ یوز آسف شہردہ نبی کی قبر ہے اور بعض کہتے ہیں کہ عیسٰی صاحب کی قبر ہے اور کہتے ہیں کہ کتبہ پر یہ لکھا ہوا تھا کہ یہ شہزادہ اسرائیل کے