مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 464
ہوتا ہے۔یہ بھی جاننا چاہیے کہ معمولی سلسلہ مو ت کا ہر ایک بد اور نیک پر محیط ہے۔کسی خاص فرقہ سے مخصوص نہیں۔اگر ہماری اولاد میں سے کوئی مر گیا یا آیندہ مرے تو دشمنوں کے لئے یہ خوشی کی بات نہیں کیونکہ یہ موت ہر ایک کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔بلکہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ ہمارے گھر کے عزیزوں میں سے یا ہمارے بہت قریب متعلقین میں سے بعض کی اجل قریب ہے۔سو ایسے واقعات دشمن کے لئے خوشی کی جگہ نہیں کیونکہ موت فوت سے کسی نبی کا خاندان مستثنیٰ نہیں رہا۔آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے کئی لڑکے فوت ہو گئے یہاں تک کہ خبیث فطرت کافروں نے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کا نام ابتر رکھا۔مگر آخر کار خدا نے فتح اور نصرت کے تمام وعدے پورے کئے یہاں تک کہ ان عرب کے کافروں کا نام و نشان نہ رہا جو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو معدوم کرنا چاہتے تھے اور جزیرۂ عرب اسلام سے بھر گیا یہ سچ ہے کہ اَلْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ۔سوخدا کا یہ وعدہ ہے کہ مجھ سے بھی ایسا ہی کرے گا جیسا کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ایک دن آتا ہے کہ جن معتصب اور جانی دشمنوں کا آج مُنہ دیکھتے ہو۔پھر نہیں دیکھو گے۔وہ جڑ سے کاٹے جاویں گے اور ان کا نام و نشان نہیں رہے گا۔اس بارے میں ان دنوں میں جو کچھ خدا تعالیٰ نے مجھے فرمایا ہے۔وہ پیشگوئی اس جگہ لکھتا ہوں۔چاہیے کہ میری جماعت اس کو یاد رکھیں۔اور اس کو اپنے گھروں کے نظارہ گاہ جگہوں پر چسپاں کریں اور اپنی عورتوں اور لڑکوں کو اس سے اطلاع دیں اور جہاں تک ممکن ہو نرمی اور آہستگی سے اپنے واقف کاروں کو اس امر پر مطلع کریں کیونکہ یہ دن آنے والے ہیں اور خدا نے سب کچھ دیکھا ہے اور اب وہ ہم میں اور ہمارے اُن مخالفوں میں جو تکفیر اور گالیوں سے باز نہیں آتے فیصلہ کرے گا۔وہ حلیم ہے مگر اس کا غضب بھی سب سے بڑھ کر ہے اور وہ سزا دینے میں دھیما ہے مگر اس کا قہر بھی ایسا ہے کہ فرشتے بھی اس سے کانپتے ہیں۔اور اس پیشگوئی میں ہمارے مخاطب صرف وہ لوگ ہیں جنہوں نے حد سے زیادہ مجھے ستایا اور گالیاں دینے اور بد زبانی میں حد سے زیادہ بڑھ گئے بلکہ بعض نے ان میںسے میرے قتل کے فتوے دیئے اور وہ سب لوگ چاہتے ہیں کہ مَیں قتل کیا