مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 463
اب ظاہر ہے کہ یہ تو خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم الشان نشان تھا جو خدا نے کھلے کھلے طور پر خبر دے دی کہ مبارک احمد بلوغ کی عمر تک نہیں پہنچے گا اور خورد سالی میں ہی فوت ہو جائے گا۔اب کوئی ایمان دار سوچے کہ کیا یہ کسی اعتراض کی جگہ تھی بلکہ یہ موت تو پہلے ہی سے مقرر ہو چکی تھی اور اخباروں میں شائع ہو چکی تھی۔اس لئے یہ ایک بڑا بھاری نشان تھا کیونکہ ایسے عمیق غیب پر انسان کا علم محیط نہیں ہو سکتا۔مگر تعصّب کا کیا علاج۔معتصب انسان اندھا ہو جاتا ہے اوراس وقت اس پر یہ شعر صادق آتا ہے۔؎ چشم بد اندیش کہ برکندہ باد عیب نماید ہنرش درنظر۱؎ لیکن خدا کی قدرتوں پر قربان جائوں کہ جب مبارک احمد فوت ہوا ساتھ ہی خدا تعالیٰ نے یہ الہام کیا۔اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُـلَامٍ حَلِیْمٍ یَنْزِلُ مَنْزِلَ الْمُبَارَکِ۔یعنی ایک حلیم لڑکے کی ہم تجھے خوشخبری دیتے ہیں جوبمنزلہ مبارک احمد کے ہو گا۔اور اس کا قائمقام اور اس کا شبیہ ہو گا۔پس خدا نے نہ چاہا کہ دشمن خوش ہو۔اس لئے اس نے بمجرد وفات مبارک احمد کے ایک دوسرے لڑکے کی بشارت دے دی تا یہ سمجھا جائے کہ مبارک احمد فوت نہیں ہوا۔بلکہ زندہ ہے۔اور ایک الہام میں مجھے مخاطب کر کے فرمایا۔اِنِّیْ اُرِیْحُکَ وَلَا اُجِیْحُکَ وَاُخْرِجُ مِنْکَ قَوْمًا یعنی مَیں تجھے راحت دوںگا اور مَیں تیری قطع نسل نہیں کروں گا اور ایک بھاری قوم تیری نسل سے پیدا کروں گا یہ خدا کا کلام ہے جو اپنے وقت پر پورا ہو گا۔اگر اس زمانہ کے بعض لوگ لمبی عمر پائیں گے تو وہ دیکھیں گے کہ آج جو خدا کی طرف سے یہ پیشگوئی کی گئی ہے وہ کس شان اور قوت اور طاقت سے ظہور میں آئے گی۔خدا کی باتیں ٹل نہیں سکتیں۔وہ خدا جس نے ابراہیم علیہ السّلام کو اور پھر موسیٰ علیہ السّلام کو اور پھر عیسیٰ علیہ السّلام کو اور سب کے بعد ہمارے سیّد و مولیٰ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو جانی اور خونی دشمنوں سے بچایا وہ مجھے بھی بچائے گا۔اور وہ وقت آتا ہے بلکہ نزدیک ہے کہ دشمن اپنے کردار کی سزا پائیں گے کیونکہ خدا شریر کو دوست نہیں رکھتا۔جو شخص تقویٰ سے کام نہیں لیتا اور بدزبانی میں حد سے بڑھ جاتا ہے وہ آخر پکڑا جاتا ہے۔مگر خدا متقی کے ساتھ ۱ : ترجمہ شعر: بد خواہ کی آنکھ کہ خدا کرے پھوٹ جائے۔اسے ہنر بھی عیب دکھائی دیتا ہے۔