مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 31 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 31

کہ چونکہ وہ سُولی دیئے گئے تھے تو بموجب حکم توریت کے وہ اُس رفع سے بے نصیب ہیں جو مومنوں کو موت کے بعد خدا کی طرف سے بطور انعام ہوتا ہے اور خدا کے قرب کے ساتھ ایک پاک زندگی ملتی ہے۔سو ان آیات میں یہودیوں کے اس خیال کا اس طرح پر رد کیا گیا کہ مسیح صلیب کے ذریعے قتل نہیں کیا گیا تھا اور اس کی موت صلیب پر نہیں ہوئی اس لئے وہ توریت کے اس حکم کے نیچے نہیں آ سکتا کہ جو شخص سُولی پر چڑھا یا جاوے اس کا خدا کی طرف رفع نہیں ہوتا بلکہ وہ لعنتی ہو کر جہنم کی طرف جاتاہے۔اب دیکھو کہ جسمانی رفع کا اس جگہ کوئی جھگڑا نہ تھا اور یہودیوں کا کبھی یہ مذہب نہیں ہوا۔اور نہ اب ہے کہ جو شخص سُولی پر لٹکایا جاوے اس کا جسمانی طورپر رفع نہیں ہوتا۔یعنی وہ مع جسم آسمان پر نہیں جاتاکیونکہ یہودیوں نے جو حضرت مسیح کے اس رفع کا انکار کیا جو ہر ایک مومن کے لئے موت کے بعد ہوتا ہے تو اُس کا سبب یہ ہے کہ یہودیوں اور نیز مسلمانوں کے نزدیک یہ ضروری ہے کہ ایماندار کا فوت کے بعد خدا کی طرف رفع ہو جیسا کہ آیت ۱؎ صریح دلالت کرتی ہے اور جیسا کہ اِ  ۲؎ میں بھی یہی اشارہ ہے لیکن جسمانی رفع یہودیوں کے نزدیک اور نیز مسلمانوں کے نزدیک بھی نجات کے لئے شرط نہیں ہے جیسا کہ ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ کا جسمانی رفع نہیں ہوا تو کیا وہ یہودیوں کے نزدیک نجات یافتہ نہیں۔غرض اس قصّہ میں اکثر لوگ حقیقت کو چھوڑ کر کہیں کے کہیں چلے گئے ہیں۔قرآن شریف ہر گز اس عقیدہ کی تعلیم نہیں کرتا کہ نجات کے لئے جسمانی رفع کی ضرورت ہے اور نہ یہ کہ حضرت مسیح زندہ آسمان پر چلے گئے ہیں۔قرآن نے کیوں اس قصہ کو چھیڑا۔اس کا فقط یہ سبب تھا کہ یہودیوں اور عیسائیوں میں رُوحانی طور پر رَفع اور عدمِ رفع میں ایک جھگڑا تھا۔یہودیوں کو یہ حجت ہاتھ آ گئی تھی کہ یسُوع مسیح سُولی دیا گیا ہے لہذا وہ توریت کے رو سے اس رفع کا جو ایمانداروں کا ہو تا ہے بے نصیب رہا اور اس سے انہوں نے یہ نتیجہ نکالا تھا کہ وہ سچا نبی نہیں ہے جیسا کہ اب بھی وہ سُولی کا واقعہ بیان کر کے یہی مقام توریت کاپیش کرتے ہیں۔اور مَیں نے اکثر یہودیوں سے جو دریافت کیاتو انہوں نے یہی ۱؎ الاعراف : ۴۱ ۲؎ الفجر : ۲۹