مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 30 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 30

وجود شائع نہیں کی گئیں اور نہ وہ تمام انجیلیںچھاپ کر عام طور پر شائع کی گئی ہیں تا پبلک کو رائے لگانے کا موقع ملتا۔پھر قطع نظر اس سے یہ چار انجیلیں جن کے بیان پر بھروسہ کیا گیا ہے۔یہ بھی کھلی کھلی اور یقینی شہادت اس بات کی نہیں دیتیں کہ درحقیقت حضرت مسیح آسمان پر مع جسم عنصری چلے گئے تھے۔ان انجیلوں نے کوئی جماعت دو یا چار ثقہ آدمیوں کی پیش نہیں کی جن کی شہادت پر اعتماد ہو سکتا۔اور اس واقعہ کے ذاتی اور عینی رؤیت کے مدعی ہوتے۔پھر انہیں انجیلوں میں یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت مسیح ایک چور کو تسلّی دیتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ بہشت میں روزہ کھولے گا۔بہت خوب۔مگر اس سے لازم آتا ہے کہ یا تو چور بھی جسم عنصری کے ساتھ بہشت میں گیا ہو اور یا حضرت مسیح چور کی طرح محض روح کے ساتھ بہشت میں گئے ہوں۔پھر اس صورت میں جسم کے ساتھ جانا صریح باطل یا یوں کہو کہ چور تو بدستور بہشت میں روحانی رنگ میںرہا لیکن حضرت مسیح تین دن بہشت میں رہ کر پھر اس سے نکالے گئے۔اسی طرح اور کئی قسم کے مشکلات اور پیچید گیاں ہیں جو انجیل سے پیدا ہوتی ہیں چنانچہ یہ بھی عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح فوت ہونے پر بہشت کی طرف نہیں گئے تھے بلکہ دوزخ کی طرف گئے۔اس سے سمجھا جاتا ہے کہ غالباً وہ چور بھی دوزخ کی طرف گیا ہو گا کیونکہ وہ تو خود دوزخ کے لائق ہی تھا۔پس حق بات یہی تھی کہ انجیل کے متناقض بیان نے انجیل کو بے اعتماد کر دیا ہے۔حضرت مسیح کا صلیب کے بعد اپنے حواریوں کو ملنا۔کباب کھانا ، زخم دکھلانا، سڑک پر چلنا، ایک گائوں میں رات اکٹھے رہنا جو انجیلوں سے ثابت ہوتا ہے۔یہ وہ امور ہیں جو قطعی طور پر ثابت کرتے ہیں جو حضرت مسیح آسمان پر نہیں گئے۔اور قرآن شریف توہمیں بار بار یہ بتلاتا ہے کہ حضرت مسیح فوت ہو گئے ہیں۔ہاں جو رفع ایماندار لوگوں کے لئے فوت کے بعد ہوا کرتا ہے وہ ان کے لئے بھی ہوا جیسا کہ آیتَّ ۱؎سے سمجھاجاتا ہے کیونکہ لفظ رَافِعُکَ قرآن شریف میں لفظ مُتَوَفِّیْکَکے بعد مذکور ہے اور یہ قطعی قرینہ اس بات پر ہے کہ یہ وہ رفع ہے جو وفات کے بعد مومنوں کے لئے ہوا کرتا ہے۔اصل جڑھ اس کی یہ تھی کہ یہودی حضرت مسیح کے رفع روحانی کے منکر ہیں اور کہتے ہیں ۱؎ اٰل عمران : ۵۶