مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 311 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 311

خدا میں تغیر کونسا لازم آیا۔شرم! شرم!! شرم!!! مگر افسوس کہ وید کی رُو سے خدا ان تغیرات کامالک نہیں بن سکتا کیونکہ وید تو خدا کے فرشتوں کا منکر ہے۔پس کیونکر دنیا کے ذرّات اور رُوحوں کی قوتیں اس کی آواز سُن سکتی ہیں۔علم طبعی اور ہیئت کا سلسلہ تبھی خدا کی طرف منسوب ہو سکتا ہے کہ جب طبعی طور پر ہر ایک ذرہ مخلوقات کا خدا کا فرشتہ مان لیا جائے ورنہ فرشتوں کے انکار سے دہریہ بننا پڑے گا کہ جو کچھ دنیا میں ہورہا ہے پرمیشر کو اس کا کچھ بھی علم نہیں اور نہ اس کی مرضی اور ارادہ سے ہورہا ہے مثلاً کانوں میں سونا اور چاندی اور پیتل اور تانبا اور لوہا طیار ہوتا ہے اور بعض کانوں میں سے ہیرے نکلتے ہیں اورنیلم پیدا ہوتا ہے اور بعض جگہ یا قوت کی کانیں ہیں اور بعض دریاؤںمیں سے موتی پیدا ہوتے ہیں اور ہر ایک جانور کے پیٹ سے بچہیا انڈہ پیدا ہوتا ہے۔اب خدا نے تو قرآن شریف میں ہمیں یہ سکھلایا ہے کہ یہ طبعی سلسلہ خود بخود نہیں بلکہ ان چیزوں کے تمام ذرات خدا کی آوازسنتے ہیں اور اس کے فرشتے ہیں یعنی اس کی طرف سے ایک کام کے لئے مقر رشدہ ہیں۔پس وہ کام اس کی مرضی کے موافق وہ کرتے رہتے ہیں۔سونے کے ذرات سونا بناتے رہتے ہیں اور چاندی کے ذرات چاندی بناتے رہتے ہیں اور موتی کے ذرات موتی بناتے ہیں اور انسانی وجود کے ذرات ماؤں کے پیٹ میں انسانی بچہ طیّار کرتے ہیں اور یہ ذرات خود بخود کچھ بھی کام نہیں کرتے بلکہ خدا کی آواز سُنتے ہیں اور اس کی مرضی کے موافق کام کرتے ہیں اسی لئے وہ اس کے فرشتے کہلاتے ہیں اور کئی قسم کے فرشتے ہوتے ہیں یہ تو زمین کے فرشتے ہیں۔مگر آسمان کے فرشتے آسمان سے اپنا اثر ڈالتے ہیں جیسا کہ سورج کی گرمی بھی خدا کا ایک فرشتہ ہے جو پھلوں کاپکانا اور دوسرے کام کرتا ہے اور ہوائیں بھی خدا کے فرشتے ہیں جو بادلوں کو اکٹھے کرتے اور کھیتوں کو مختلف اثر اپنے پہنچاتے ہیں اور پھر ان کے اوپر اور بھی فرشتے ہیں جو ان میں تاثیر ڈالتے ہیں۔علوم طبعی اس بات کے گواہ ہیں کہ فرشتوں کا وجود ضروری ہے اور ان فرشتوں کو ہم بچشمِ خود دیکھ رہے ہیں۔اب بقول آریہ صاحبان ویدان فرشتوں کا منکر ہے۔پس اس طور سے وہ اس طبعی سلسلہ سے انکاری اور دہریہ مذہب کی بنیاد ڈالتا