مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 312
ہے کیا یہ امر بدیہی اور مشہود و محسوس نہیں کہ ہر ایک ذرہ ذراتِ اجسام میں سے ایک کام میں مشغول ہے۔یہاں تک کہ شہد کی مکھیاں بھی خدا کی وحی سے ایک کام کررہی ہیں۔پس وید اگر اس سلسلہ سے منکر ہے تو پھر اس کی خیر نہیں۔اس صورت میں وہ تو دہریہ مذہب کا حامی ہوگا۔اگر یہی وید ودیا کا نمونہ ہے تو شاباش خوب نمونہ پیش کیا۔(۵) ایک یہ بھی اعتراض ہے کہ شفاعت پر بھروسہ شرک ہے۔الجواب :- قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ۱؎ یعنی خدا کے اذن کے سوا کوئی شفاعت نہیں ہو سکتی۔قرآن شریف کی رُو سے شفاعت کے معنے یہ ہیں کہ ایک شخص اپنے بھائی کے لئے دُعا کرے کہ وہ مطلب اس کو حاصل ہو جائے۔یا کوئی بلا ٹل جائے۔پس قرآن شریف کا حکم ہے کہ جو شخص خدا ئے تعالیٰ کے حضور میں زیادہ جھکا ہوا ہے وہ اپنے کمزور بھائی کے لئے دُعا کرے کہ اس کو وہ مرتبہ حاصل ہو یہی حقیقتِ شفاعت ہے۔سو ہم اپنے بھائیوں کے لئے بیشک دُعا کرتے ہیں کہ خدا ان کو قوت دے اور ان کی بلا دور کرے اور یہ ایک ہمدردی کی قسم ہے۔پس اگر وید نے اس ہمدردی کو نہیں سکھلایا اور وید کی رُو سے ایک بھائی دوسرے کے لئے دُعا نہیں کر سکتا تو یہ بات وید کے لئے قابل تعریف نہیں بلکہ ایک سخت عیب ہے۔چونکہ تمام انسان ایک جسم کی طرح ہیں اس لئے خدا نے ہمیں بار بار سکھلایا ہے کہ اگرچہ شفاعت کو قبول کرنا اس کا کام ہے مگر تم اپنے بھائیوں کی شفاعت میں یعنی ان کے لئے دُعا کرنے میں لگے رہو اور شفاعت سے یعنی ہمدردی کی دُعا سے باز نہ رہو کہ تمہارا ایک دوسرے پر حق ہے۔اصل میں شفاعت کا لفظ شفع سے لیا گیا ہے۔شفع جفت کو کہتے ہیں جوطاق کی ضد ہے۔پس انسان کو اس وقت شفیع کہا جاتا ہے جبکہ وہ کمال ہمدردی سے دوسرے کا جفت ہو کر اس میں فنا ہو جاتا ہے اور دوسرے کے لئے ایسی ہی عافیت مانگتا ہے جیسا کہ اپنے نفس کے لئے۔اور یاد رہے کہ کسی شخص کا دین کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ شفاعت کے رنگ میں ہمدردی اس میں پیدا نہ ہو بلکہ