مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 310
سے ایمان رکھتے ہیں کہ وہ کبھی معطل نہیں رہا مگر اس کی تفصیل کو ہم نہیں جانتے۔ہمیں معلوم نہیں کہ اس نے کتنی مرتبہ اس دنیا کو بنایا اور کتنی مرتبہ ہلاک کیا یہ لمبا اور غیر متناہی علم خدا کو ہے کسی دفتر میں یہ سما نہیں سکتا ہاں عیسائیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ صرف چند مدت سے خدا نے دنیا کو پیدا کیا ہے۔پہلے کچھ نہ تھا اور قدیم سے وہ خالق نہیں ہے۔سو یہ اعتراض ان پر کرو اور پھر آپ لوگوں کو شرم کرنا چاہیے کہ ہم تو مانتے ہیں کہ ہمارا خدا قدیم سے ذرّاتِ اجسام پیدا کرتا رہا اور قدیم سے روحیں بھی پیدا کرتا رہا مگر آپ لوگ تو قطع نظر قدیم کے ایک مرتبہ کے لئے بھی خدا ئے تعالیٰ کی ان صفات کو نہیں مانتے پھر کیوں اپنے گھر سے بے خبر رہ کر اسلام پر محض افترا کے طور پر اعتراض کر دیتے ہیں ورنہ حیا اور شرم کرکے قرآن شریف سے ہمیں دکھلادو کہ کہاں لکھا ہے کہ مَیں قدیم سے خالق نہیں ہوں مگر آپ کا پرمیشر تو بجز معمار یا نجار کی حیثیت سے زیادہ مرتبہ نہیں رکھتا اور کیونکر معلوم ہوا کہ وہ عالم الغیب ہے اس کا وید میں کیا ثبوت ہے ذرا ہوش سے جواب دو۔(۴) ایک یہ بھی اعتراض ہے کہ مسلمانوں کا خدا متغیر ہے کبھی کوئی حکم دیتا ہے کبھی کوئی۔الجواب:- خدا آپ لوگوں کو ہدایت دے۔قرآن شریف میں کہیں نہیں لکھا کہ خدا متغیر ہے بلکہ یہ لکھا ہے کہ انسان متغیر ہے اس لئے اس کے مناسب حال خدا اس کے لئے تبدیلیاں کرتا ہے۔جب بچہ پیٹ میں ہوتا ہے تو صرف اس کو خون کی غذا ملتی ہے اور جب پیدا ہوتا ہے تو ایک مدت تک صرف دودھ پیتا ہے اور پھر بعد اس کے اناج کھاتا ہے اور خدا ئے تعالیٰ تینوں سامان اس کے لئے وقتاً فوقتاً پیدا کردیتا ہے۔پیٹ میں ہونے کی حالت میں پیٹ کے فرشتوں کو جو اندرونی ذرات ہیں حکم کر دیتا ہے کہ اس کی غذا کے لئے خون بناویں اور پھر جب پیدا ہوتا ہے تو اس حکم کو منسوخ کر دیتا ہے تو پھر پستان کے فرشتوں کو جو اس کے ذرات ہیں حکم کرتا ہے جو اس کے لئے دودھ بناویں اور جب وہ دودھ سے پرورش پاچکتا ہے تو پھر اس حکم کو بھی منسوخ کر دیتا ہے تو پھر زمین کے فرشتوں کو جو اس کے ذرات ہیں حکم کرتا ہے جو اس کے لئے اخیر مدت تک اناج اور پانی پیدا کرتے رہیں۔پس ہم مانتے ہیں کہ ایسے تغیر خدا کے احکام میں ہیں خواہ بذریعہ قانونِ قدرت اور خواہ بذریعہ شریعت ــ۔مگر اس سے