مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 277
جائے۔خدا نے جبکہ توریت میں یہ کہا کہ آدم کو میں نے اپنی صورت میں پیدا کیا۔تبھی سے انسان کا گوشت انسانوں پر حرام کیا گیا ہے۔پھر کیا وجہ اور کیا سبب کہ کبوتر جو عیسائیوں کے خدا کا باپ ہے جس نے مسیح کو بیٹے کا خطاب دیا۔وہ کھایا جاتا ہے اور نہ صرف کھایا جاتا ہے بلکہ اس کے گوشت کی تعریف بھی کی جاتی ہے۔جیسا کہ انسائیکلوپیڈیا صفحہ ۸۵ جلد۱۹ میں لکھا ہے کہ کبوتر کا گوشت تمام پرندوں سے زیادہ لذید ہوتا ہے۔جن لوگوں کو کبوتر کی قسم فروٹ پجن کھانے کا اتفاق خوش قسمتی سے ہوا ہے انہوں نے یہ شہادت دی ہے اور یہود کی شریعت کے مطابق جس کو بکرا ذبح کرنے کی توفیق نہ ہو وہ کبوتر ذبح کرے لوقا ۲۴؍۲ اور مریم نے بھی دو کبوتر ذبح کئے تھے کیونکہ وہ غریب تھی۔لوقا ۲۴؍۲۔اب دیکھو ایک طرف تو کبوتر کو خدا بنایا اور ایک طرف کبوتر پر ہمیشہ چھری پھیر دی جاتی ہے۔مسیح تو صرف ایک دفعہ صلیب پر چڑھ کر تمام عیسائیوں کا شفیع بن گیا۔مگر بیچارے کبوتر کو اس شفاعت سے کچھ حصہ نہ ملا۔جس کی بوٹی بوٹی ہمیشہ دانتوں کے نیچے پیسی جاتی ہے چنانچہ ہم نے بھی کل ایک سفید کبوتر کھایا تھا۔لہٰذا روح القدس کی تائید سے یہ تحریک پیدا ہوئی اور انسائیکلوپیڈیا میں جو پانچ سو قسم کبوتر کی لکھی ہے یہ بھی میری رائے میں ناقص ہے کیونکہ اس میں اس کبوتر کو شامل نہیں کیا گیا جس کی شبیہ میں عیسائیوں کا خدا ظاہر ہوا تھا۔اس لئے اس بیان کی یوںتصحیح کرنی چاہیے کہ کبوتر کی اقسام ۵۰۱ ہیں اور اس کی تصریح کر دینی چاہیے کہ یہ ایک نئی قسم وہ داخل کی گئی ہے جس میں خدا مسیح پر نازل ہوا تھا۔میں ایسے شخص کا سخت دشمن ہوں کہ جو کسی عورت کے پیٹ سے پیدا ہو کر پھر خیال کرتا ہے کہ میں خدا ہوں گو میں مسیح ابن مریم کو اس تہمت سے پاک قرار دیتا ہوں کہ اس نے کبھی خدائی کا دعویٰ کیا تاہم میں دعویٰ کرنے والے کو تمام گنہگاروں سے بدتر سمجھتا ہوں میں جانتا ہوں اور مجھے دکھایا گیا ہے کہ مسیح ابن مریم اس تہمت سے برَی اور راستباز ہے اور اس نے کئی دفعہ مجھ سے ملاقات کی لیکن ہر ایک دفعہ اپنی عاجزی اور عبودیت ظاہر کی۔ایک دفعہ میں نے اور اس نے عالم کشف میں جو گویا بیداری کا عالم تھا ایک جگہ بیٹھ کر ایک ہی پیالہ میں گائے کا گوشت کھایا اور اس