مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 276
ہی اس کو دیا ہے جو اس کے نزدیک خدا ہے۔تو یہ ٹھگوں والا طریق اس کو اختیار نہیں کرنا چاہیے کہ اس سے کوئی فیصلہ نہیں ہو گا بلکہ طریق یہ ہے کہ وہ اپنے مصنوعی خدا سے اجازت لے کر میرے ساتھ اس بارے میں مقابلہ کرے۔میں ایک آدمی ہوں جو پیرانہ سالی تک پہنچ چکا ہوں۔میری عمر غالباً چھیاسٹھ سال سے بھی کچھ زیادہ ہے۔اور ذیابیطس اور اسہال کی بیماری بدن کے نیچے کے حصہ میں اور دورانِ سر اور کمی دورانِ خون کی بیماری بدن کے اوپر کے حصہ میں ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ میری زندگی میری صحت سے نہیں بلکہ میرے خدا کے حکم سے ہے۔پس اگر ڈوئی کا مصنوعی خدا کچھ طاقت رکھتا ہے تو ضرور میرے مقابل اس کو اجازت دے گا۔اگر تمام مسلمانوں کے ہلاک کرنے کے عوض میں صرف میرے ہلاک کرنے سے ہی کا م ہو جائے تو ڈوئی کے ہاتھ میں ایک بڑا نشان آجائے گا۔پھر لاکھوں انسان مریم کے بیٹے کو خدا مان لیں گے اور نیز ڈوئی کی رسالت کو بھی اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر تمام دنیا کے مسلمانوں کی نفرت عیسائیوں کے خدا کی نسبت ترازو کے ایک پلہ میں رکھی جائے اور دوسرے پلہ میں میری نفرت رکھی جائے۔تو میری نفرت اور بیزاری عیسائیوں کے بناوٹی خدا کی نسبت تمام مسلمانوں کی نفرت سے وزن میں زیادہ نکلے گی۔میں سب پرندوںسے زیادہ کبوتر کا کھانا پسند کرتا ہوں کیونکہ وہ عیسائیوں کا خدا ہے معلوم نہیں کہ ڈوئی کی اس میں کیا رائے ہے۔کیا وہ بھی اس کی نرم نرم ہڈیاں دانتوں کے نیچے چباتے ہیں یا خدا ئی کی مشابہت کی وجہ سے اس پر کچھ رحم کرتے اور اس کی حرمت کے قائل ہیں۔اس ملک کے ہندوئوں نے جب سے گائے کو پرمیشر کا اوتار مانا ہے۔تب سے وہ گائے کو ہرگز نہیں کھاتے۔پس وہ ان عیسائیوں سے اچھے رہے جنہوں نے اس کبوتر کی کچھ عظمت نہ کی جس کی شبیہ میں ان کا وہ خدا ظاہر ہوا جس نے مسیح کو آسمان سے آواز دی کہ تو میرا پیارا بیٹا ہے۔پس اس رشتہ کے لحاظ سے جیسا کہ سمجھا جاتا ہے کبوتر مسیح کا باپ ہوا۔گویا خدا کا باپ ٹھہرا۔مگر تب بھی عیسائیوں نے اس کے کھانے سے پرہیز نہیں کیا حالانکہ وہ اس لائق تھا کہ اس کوخداوند خداوند کہا