مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 275
سے طریق سلب امراض بھی ہے۔یہ طریق نامعلوم وقت سے ہر ایک قوم میں رائج ہے۔ہندو بھی ایسے کرتب کیا کرتے ہیں اور یہودیوں میں بھی یہ طریق چلے آتے ہیں اور مسلمانوں میں بھی بہت سے لوگ سلب امراض کے مدعی ہیں اور سچ بات یہ ہے کہ اس طریق کو حق اور باطل کے فیصلہ کرنے کے لئے کوئی دخل نہیں کیونکہ اہل حق اور اہل باطل دونوں اس میں دخل پیدا کر سکتے ہیں چنانچہ انجیلوں سے بھی ثابت ہے کہ جب حضرت عیسیٰ اس طریق توجہ سے بعض امراض کو اچھا کرتے تھے تو ان کی زندگی میں ہی ایسے لوگ بھی موجود تھے کہ ان کے مرید اور حواری نہ تھے مگر اسی طرح امراض کو اچھا کر لیتے تھے جیسا کہ حضرت عیسیٰ کر لیتے تھے اور اس وقت ایک تالاب بھی ایسا تھا جس میں غوطہ لگا کر اکثر امراض اچھی ہو جاتی تھیں۔سو یہ مشق توجہ اور سلب امراض کی جو عام طور پر قوموں کے اندر پائی جاتی ہے۔یہ سچے مذہب کے لئے کامل شہادت نہیں ٹھیر سکتی۔ہاں اس صورت میں کامل شہادت ٹھہر سکتی ہے کہ دو فریق جو اپنے اپنے مذہب کی سچائی کے مدعی ہیں وہ چند بیمار مثلاً بیس بیمار قرعہ اندازی سے باہم تقسیم کر لیں اور پھر ان دونوں میں سے جس کے بیمار فریق مقابل سے بہت زیادہ اچھے ہو جائیں اس کو حق پر سمجھا جائے گا۔چنانچہ گذشتہ دنوں میں ایسا ہی میں نے اس ملک میں اشتہار دیا تھا۔مگر کسی نے اس کا مقابلہ نہ کیا۔مگر میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر ڈوئی یا اور کوئی ڈوئی کا ہم جنس اس مقابلہ کے لئے میرے مقابل آئے تو میرا خدا اس کو سخت ذلیل کرے گا کیونکہ وہ جھوٹا ہے اور اس کا خدا بھی محض باطل کا پتلا ہے لیکن افسوس کہ اس قدر دوری میں یہ مقابلہ میسر نہیں آ سکتا۔مگر خوشی کی بات ہے کہ ڈوئی نے خود یہ طریق فیصلہ پیش کیا ہے کہ مسلمان جھوٹے ہیں اور ہلاک ہو جائیں گے۔اس طریق فیصلہ میں ہم اس قدر ترمیم کرتے ہیں کہ تمام مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی ضرورت نہیں۔اس طرح پر تو ڈوئی کے ہاتھ میں مکاّر لوگوں کی طرح یہ عذر باقی رہ جائے گا کہ مسلمان ہلاک نہ ہوں گے مگر پچاس یا ساٹھ یا سو برس کے بعد اتنے میں ڈوئی خود مر جائے گا۔تو کوئی اس کی قبر پر جاکر اس کو ملزم کرے گا کہ تیری پیشگوئی جھوٹی نکلی پس اگر ڈوئی کی سیدھی نیت ہے اور وہ جانتا ہے کہ یہ سبق درحقیقت مریم کے صاحبزادہ نے