مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 171
پھر کن معنوں سے اُس کا نام حَکَـم رکھا جاتا۔کیا وہ باتوں کو ماننے آیا تھا یا منوانے آیا تھا؟ تو اس صورت میں اس کا آنا بھی بے سود تھا۔سوا ے قوم! تم ضد نہ کرو۔ہزاروں باتیں ہوتی ہیں جو قبل از وقت سمجھ نہیں آتیں۔ایلیا کے دوبارہ آنے کی اصل حقیقت حضرت مسیح سے پہلے کوئی نبی سمجھا نہ سکا تا یہود حضرت مسیح کے ماننے کے لئے تیار ہو جاتے۔ایسا ہی اسرائیلی خاندان میں سے خاتم الانبیاء آنے کا خیال جو یہود کے دل میں مرکوز تھا۔اس خیال کو بھی کوئی نبی پہلے نبیوں میں سے صفائی کے ساتھ دُور نہ کر سکا۔اسی طرح مسیح موعود کا مسئلہ بھی مخفی چلا آیا تا سنت اﷲ کے موافق اس میں بھی ابتلا ہو۔بہتر تھا کہ میرے مخالف اگر ان کو ماننے کی توفیق نہیں دی گئی تھی تو بارے کچھ مدت زبان بند رکھ کر اورکفِّ لساَن اختیار کر کے میرے انجام کو دیکھتے۔اب جس قدر عوام نے بھی گالیاں دیں یہ سب گناہ مولویوں کی گردن پر ہے۔افسوس یہ لوگ فراست سے بھی کام نہیں لیتے۔میں ایک دائم المرض آدمی ہوں اور وہ د۲و زرد چادریں جن کے بارے میں حدیثوں میں ذکر ہے کہ ان دو چادروں میں مسیح نازل ہو گا اور وہ دو زرد چادریں میرے شامل حال ہیں جن کی تعبیر علم تعبیر الرؤیا کی رُو سے دو بیماریاں ہیں۔سو ایک چادر میرے اُوپر کے حصہ میں ہے کہ ہمیشہ سردرد اور دورانِ سر اور کمیئِ خواب اور تشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے اور دوسری چادر جو میرے نیچے کے حصہ بدن میں ہے وہ بیماری ذیابیطس ہے کہ ایک مدت سے دامنگیر ہے اور بسا اوقات سو سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس قدر کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں۔بسا اوقات میرا یہ حال ہوتا ہے کہ نماز کے لئے جب زینہ چڑھ کر اوپر جاتا ہوں تو مجھے اپنی ظاہر حالت پر امید نہیں ہوتی کہ زینہ کی ایک سیڑھی سے دوسری سیڑھی پر پائوں رکھنے تک مَیں زندہ رہوں گا۔اب جس شخص کی زندگی کا یہ حال ہے کہ ہر روز موت کا سامنا اس کے لئے موجود ہوتا ہے اور ایسے مرضوں کے انجام کی نظیریں موجود ہیں تو وہ ایسی خطرناک حالت کے ساتھ کیونکر افترا پر جُرأت کر سکتا ہے اور وہ کس صحت کے بھروسے پر کہتا ہے کہ میری اسّی برس کی عمر ہوگی حالانکہ ڈاکٹری تجارب تو اس کو موت کے پنجہ میں ہر وقت پھنسا ہوا خیال کرتے ہیں۔ایسی مرضوں والے مدقوق کی