مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 172
طرح گداز ہو کر جلد مرجاتے ہیں یا کار بینکل یعنی سرطان سے اُن کا خاتمہ ہو جاتا ہے تو پھر جس زور سے میں ایسی حالتِ پُرخطر میں تبلیغ میں مشغول ہوں کیا کسی مفتری کا کام ہے۔جب مَیں بدن کے اُوپر کے حصہ میں ایک بیماری اور بدن کے نیچے کے حصہ میں ایک دوسری بیماری دیکھتا ہوں تو میرا دل محسوس کرتاہے کہ یہ وہی دو چادریں ہیں جن کی خبر جناب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے دی ہے۔مَیں محض نصیحتاً ﷲ مخالف علماء اور ان کے ہم خیال لوگوں کو کہتا ہوں کہ گالیاں دینا اور بدزبانی کرنا طریق شرافت نہیں ہے۔اگر آپ لوگوں کی یہی طینت ہے تو خیر آپ کی مرضی۔لیکن اگر مجھے آپ لوگ کاذب سمجھتے ہیں تو آپ کو یہ بھی تو اختیار ہے کہ مساجد میں اکٹھے ہو کر یا الگ الگ میرے پر بددُعائیں کریں اور رو رو کر میرا استیصال چاہیں۔پھر اگر مَیں کاذب ہوں گا تو ضرور وہ دعائیں قبول ہو جائیں گی۔اور آپ لوگ ہمیشہ دعائیں کرتے بھی ہیں۔لیکن یاد رکھیں کہ اگر آپ اس قدر دعائیں کریں کہ زبانوں میں زخم پڑ جائیں اور اس قدر رو رو کر سجدوں میں گریں کہ ناک گھس جائیں اور آنسوئوں سے آنکھوں کے حلقے گل جائیں اور پلکیں جھڑ جائیں اور کثرت گریہ و زاری سے بینائی کم ہو جائے اور آخر دماغ خالی ہو کر مرگی پڑنے لگے یا مالیخولیا ہوجائے تب بھی وہ دعائیں سنی نہیں جائیں گی کیونکہ میں خدا سے آیا ہوں۔جو شخص میرے پر بددعا کرے گا وہ بددُعا اسی پر پڑے گی۔جو شخص میری نسبت یہ کہتا ہے کہ اس پر لعنت ہو وہ لعنت اس کے دل پر پڑتی ہے مگر اس کو خبر نہیں۔اور جو شخص میرے ساتھ اپنی کشتی قرار دے کر یہ دعائیں کرتا ہے کہ ہم میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مرے۔اس کا نتیجہ وہی ہے جو مولوی غلام دستگیر قصوری نے دیکھ لیا۔کیونکہ اس نے عام طور پر شائع کر دیا تھا کہ مرزا غلام احمد اگر جھوٹا ہے۔اورضرور جھوٹا ہے تو وہ مجھ سے پہلے مرے گا اور اگر مَیںجھوٹا ہوں تو مَیں پہلے مَر جائوں گا اور یہی دعابھی کی تو پھر آپ ہی چند روز کے بعد مَر گیا۔اگر وہ کتاب چھپ کر شائع نہ ہو جاتی تو اس واقعہ پر کون اعتبار کر سکتا۔مگر اب تو وہ اپنی موت سے میری سچائی کی گواہی دے گیا۔پس ہر ایک شخص جو ایسا مقابلہ کر ے گا اور ایسے طور کی دعا کرے گا تو وہ ضرور غلام دستگیر کی طرح میری سچائی کا گواہ بن جائے گا۔بھلا سوچنے کا مقام ہے کہ اگر لیکھرام کے مارے جانے کی نسبت بعض شریروں ظالم