مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 170
دیا گیا یہ کاذب کو بھی مل سکتا ہے۔پھر جس حالت میں قرآن شریف نے صاف لفظوں میں فرما دیا کہ اگر یہ نبی کاذب ہوتا تو یہ پیمانہ عمر وحی پانے کا اس کو عطا نہ ہوتا۔اور توریت نے بھی یہی گواہی دی اور انجیل نے بھی یہی تو پھر کیسا اسلام اور کیسی مسلمانی ہے کہ ان تمام گواہیوں کو صرف میرے بغض کے لئے ایک ردّی چیز کی طرح پھینک دیا گیا اور خدا کے پاک قول کا کچھ بھی لحاظ نہ کیا۔میں سمجھ نہیں سکتا کہ یہ کیسی ایمانداری ہے کہ ہر ایک ثبوت جو پیش کیا جاتا ہے اس سے فائدہ نہیں اُٹھاتے اور وہ اعتراضات بار بار پیش کرتے ہیں جن کا صدہا مرتبہ جواب دیا گیا ہے اور جو صرف میرے پر ہی نہیں ہیں بلکہ اگر اعتراض ایسی باتوں کا ہی نام ہے جو میری نسبت بطور نکتہ چینی ان کے مُنہ سے نکلتے ہیں تو اُن میں تمام نبی شریک ہیں۔میری نسبت جو کچھ کہا جاتا ہے پہلے سب کچھ کہا گیا ہے۔ہائے ! یہ قوم نہیں سوچتی کہ اگر یہ کاروبار خدا کی طرف سے نہیں تھا تو کیوں عین صدی کے سر پر اس کی بنیا ڈالی گئی اور پھر کوئی بتلا نہ سکا کہ تم جھوٹے ہو اور سچافلاں آدمی ہے۔ہائے ! یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ اگر مہدی معہود موجود نہیں تھا تو کس کے لئے آسمان نے خسوف کسوف کا معجزہ دکھلایا۔افسوس یہ بھی نہیں دیکھتے کہ یہ دعویٰ بے وقت نہیں۔اسلام اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر فریاد کر رہا تھا کہ مَیں مظلوم ہوں اور اب وقت ہے کہ آسمان سے میری نصرت ہو۔تیرھویں صدی میں ہی دل بول اُٹھے تھے کہ چودھویں صدی میں ضرور خدا کی نصرت اور مدد آئے گی۔بہت سے لوگ قبروں میں جا سوئے جو رو رو کر اس صدی کی انتظار کرتے تھے اور جب خدا کی طرف سے ایک شخص بھیجا گیا تو محض اس خیال سے کہ اس نے موجودہ مولویوں کی ساری باتیں تسلیم نہیں کیں اس کے دشمن ہو گئے۔مگر ہر ایک خدا کا فرستادہ جو بھیجاجاتا ہے ضرور ایک ابتلا ساتھ لاتا ہے۔حضرت عیسیٰ جب آئے تو بدقسمت یہودیوں کو یہ ابتلا پیش آیا کہ ایلیا دوبارہ آسمان سے نازل نہیں ہوااور ضرور تھا کہ پہلے ایلیا آسمان سے نازل ہوتا تب مسیح آتا جیسا کہ ملاکی نبی کی کتاب میں لکھا ہے۔اور جب ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو اہل کتاب کو یہ ابتلا پیش آیا کہ یہ نبی بنی اسرائیل میں سے نہیں آیا۔اب کیا ضرور نہ تھا کہ مسیح موعود کے ظہور کے وقت بھی کوئی ابتلا ہو۔اور اگر مسیح موعود تمام باتیں اسلام کے تہتر فرقہ کی مان لیتا تو