مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 151 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 151

ضرور حصہ لیتے۔سو اس میں کچھ شک نہیں کہ اُن کے بعض دوست جن کے دلوں میں یہ خیالات ہیں۔جب پیر صاحب کی عربی تفسیر مز ّین بہ بلاغت و فصاحت دیکھ لیں گے تو اُن کے پوشیدہ شبہات جو پیر صاحب کی نسبت رکھتے ہیں جاتے رہیں گے اور یہ امر موجب رجوع خلائق ہو گا جو اس زمانہ کے ایسے پیر صاحبوں کا عین مدعا ہوا کرتا ہے۔اور اگر پیر صاحب مغلوب ہوئے تو تسلیّ رکھیں کہ ہم اُن سے کچھ نہیں مانگتے اور نہ اُن کو بیعت کے لئے مجبور کرتے ہیں۔صرف ہمیں یہ منظور ہے کہ پیر صاحب کے پوشیدہ جوہر اور قرآن دانی کے کمالات جس کے بھروسہ پر انہوں نے میرے ردّ میں کتاب تالیف کی لوگوں پر ظاہر ہو جائیں اور شاید زلیخاؔ کی طرح اُن کے منہ سے بھی اَ نکل آئے۔اور ان کے نادان دوست اخبار نویسوں کو بھی پتہ لگے کہ پیر صاحب کس سرمایہ کے آدمی ہیں۔مگر پیر صاحب دلگیر نہ ہوں ہم ان کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ بے شک اپنی مدد کے لئے مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبدالجبار غزنوی اور محمد حسین بھیں وغیرہ کو بلا لیں بلکہ اختیار رکھتے ہیں کہ کچھ طمع دے کر دوچار عرب کے ادیب بھی طلب کر لیں۔فریقین کی تفسیر چا۴رجز سے کم نہیں ہونی چاہیے اور اگر میعاد مجوزہ تک یعنی ۱۵ ؍ دسمبر ۱۹۰۰ء سے ۲۵؍ فروری ۱۹۰۱ء تک جو ستر۷۰ دن ہیں۔فریقین میں سے کوئی فریق تفسیر فاتحہ چھاپ کر شائع نہ کرے اور یہ دن گذر جائیں تووہ جھوٹا سمجھا جائے گا اور اس کے کاذب ہونے کے لئے کسی اور دلیل کی حاجت نہیں رہے گی۔وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی المشـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــتھر مرزا غلام احمد از قادیاں ۱۵؍ دسمبر ۱۹۰۰ء مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس قادیان (یہ اشتہار ۲۰×۲۶ ۸ کے چار صفحہ پر ہے) (روحانی خزائن جلد۱۷ صفحہ ۴۷۹ تا ۴۸۴)