مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 150
میں ان متواتر اشتہارات کا جو پیر مہرعلی شاہ صاحب کی تائید میں نکل رہے ہیں یہ جواب دیتا ہوں کہ اگردرحقیقت پیر مہر علی شاہ صاحب علم معارف قرآن اور زبان عربی کی ادب اور فصاحت بلاغت میں یگانہ روزگار ہیں تو یقین ہے کہ اب تک وہ طاقتیں ان میں موجود ہوں گی۔کیونکہ لاہور آنے پر ابھی کچھ بہت زمانہ نہیں گذرا۔اس لئے مَیں یہ تجویز کرتا ہوں کہ میں اسی جگہ بجائے خود سورۃ فاتحہ کی عربی فصیح میں تفسیر لکھ کر اس سے اپنے دعویٰ کو ثابت کروں اور اس کے متعلق معارف اور حقایق سورہ ممدوحہ کے بھی بیان کروں اور حضرت پیر صاحب میرے مخالف آسمان سے آنے والے مسیح اور خونی مہدی کا ثبوت اس سے ثابت کریں اور جس طرح چاہیں سُورۃ فاتحہ سے استنباط کر کے میرے مخالف عربی فصیح بلیغ میں براہین قاطعہ اور معارف ساطعہ تحریر فرما ویں۔یہ دونوں کتابیں دسمبر ۱۹۰۰ء کی پندرہ تاریخ سے ستر۷۰ دن تک چھپ کر شائع ہو جانی چاہیے۔۱؎ تب اہل علم لوگ خود مقابلہ اور موازنہ کر لیں گے۔اور اگر اہل علم میں سے تین۳ کس جوادیب اور اہل زبان ہوں اور فریقین سے کچھ تعلق نہ رکھتے ہوں قسم کھا کر کہہ دیں کہ پیر صاحب کی کتاب کیا بلاغت اور فصاحت کے رُو سے اور کیا معارف قرآنی کے رُو سے فائق ہے تو میں عہد صحیح شرعی کرتا ہوں کہ پانسو روپیہ نقدبلا توقف پیر صاحب کی نذر کروں گا۔اور اس صورت میں اس کوفت کا بھی تدارک ہو جائے گا جو پیر صاحب سے تعلق رکھنے والے ہر روز بیان کرکے روتے ہیں جو ناحق پیر صاحب کو لاہور آنے کی تکلیف دی گئی۔اور یہ تجویز پیر صاحب کے لئے بھی سراسر بہتر ہے۔کیونکہ پیر صاحب کو شاید معلوم ہو یا نہ ہو کہ عقل مند لوگ ہر گز اس بات کے قائل نہیں کہ پیر صاحب کو علم قرآن میں کچھ دخل ہے یا وہ عربی فصیح بلیغ کی ایک سطر بھی لکھ سکتے ہیں۔بلکہ ہمیں اُن کے خاص دوستوں سے یہ روایت پہنچی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ بہت خیر ہوئی کہ پیر صاحب کو بالمقابل تفسیر عربی لکھنے کا اتفاق پیش نہیں آیا۔ورنہ اُن کے تمام دوست اُن کے طفیل سے شَاھَتِ الْوُجُوْہُ سے ۱؎ یعنی ۱۵؍ دسمبر ۱۹۰۰ء سے ۲۵؍فروری ۱۹۰۱ء تک میعاد تفسیر لکھنے کی ہے اور چھپائی کے دن بھی اسی میں ہیں۔ستر۷۰ دن میں دونوں فریق کی کتابیں شائع ہو جانی چاہئیں۔منہ