مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 130 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 130

صاحب اور ان کے دو رفیق تھے۔اگر وہ قسم کھا کر کہہ دیں کہ اس مباحثہ میںپیر مہر علی شاہ صاحب جیت گئے تو اسی وقت لازم ہو گا کہ مَیں ان کی بیعت کر لوں۔پھر بالمقابل تفسیر بھی لکھوں۔اب ظاہر ہے کہ اس طرح جواب میں کیسی چال بازی سے کام لیا گیا ہے مُنہ سے تو وہ میری تمام شرطیں منظور کرتے ہیں مگر تفسیر لکھنے کے امر کو ایک مکر سے ٹال کر زبانی مباحثہ پر حصر کر دیا ہے اور ساتھ ہی بیعت کی شرط لگا دی ہے۔بہت زور دیا گیا مگر اُن کے مُنہ سے اب تک نہیں نکلا کہ ہاں مجھے بغیر زیادہ کرنے کسی اور شرط کے فقط بالمقابل عربی میں تفسیر لکھنا منظور ہے اور باایں ہمہ ان کے مرید لاہور کے کوچہ وبازار میں مشہور کر رہے ہیں کہ پیر صاحب نے شرطیں منظور کر لی تھیں۔اور مرزا ان سے خوف کھا کر بھاگ گیا۔یہ عجیب زمانہ ہے کہ اس قدر مُنہ پر جھوٹ بولا جاتا ہے پیر صاحب کا وہ کونسا اشتہار ہے جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ مَیں کوئی زیادہ شرط نہیں کرتا۔مجھے بالمقابل عربی فصیح میں تفسیر لکھنا منظور ہے اور اسی پر فریقین کے صدق و کذب کا فیصلہ ہو گا اور اس کے ساتھ کوئی شرط زائد نہیں لگائی جائے گی۔ہاں مُنہ سے تو کہتے ہیں کہ شرطیں منظورہیں مگر پھر ساتھ ہی یہ حجت پیش کر دیتے ہیں کہ پہلے قرآن اور حدیث کے رُو سے مباحثہ ہو گا۔اور مغلوب ہو گئے تو اسی وقت بیعت کرنی ہو گی۔افسوس کہ کوئی صاحب پیر صاحب کی اس چال کو نہیں سوچتے کہ جبکہ مغلوب ہونے کی حالت میں کہ جو صرف مولوی محمد حسین کی قسم سے سمجھی جائے گی میرے لئے بیعت کرنے کا قطعی حُکم ہے۔جس کے بعد میرا عذر نہیں سنا جائے گا۔تو پھر تفسیر لکھنے کے لئے کونسا موقع میرے لئے باقی رہا۔گویا مجھے تو صرف مولوی محمد حسین صاحب کے ان چند کلمات پر بیعت کرنی پڑے گی کہ جو پیر صاحب کے عقائد ہیں وہی صحیح ہیں گویا پیر صاحب آپ ہی فریق مقدمہ اور آپ ہی منصف بن گئے۔کیونکہ جبکہ مولوی محمد حسین صاحب کے عقائد حضرت مسیح اور مہدی کے بارے میں بالکل پیر صاحب کے مطابق ہیں تو اس صورت میں ظاہر ہے کہ مولوی محمدحسین صاحب اور پیر صاحب گویا ایک ہی شخص ہیں، دو نہیں ،تو پھر فیصلہ کیاہوا۔انہی مشکلات اور انہی وجوہ پر تو مَیں نے بحث سے کنارہ کر کے یہی طریق فیصلہ نکالا تھا جو اس طرح پر ٹال دیا گیا