مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 129
۲۳۳ بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ پیر مہر علی شاہ صاحب کے توجہ دلانے کے لئے آخری حیلہ ناظرین کو خوب یاد ہو گا کہ مَیںنے موجودہ تفرقہ کے دُور کرنے کے لئے پیر مہر علی شاہ صاحب کی خدمت میں یہ تجویز پیش کی تھی کہ ہم دونوں قرعہ اندازی کے ذریعہ سے ایک قرآنی سورہ لے کر عربی فصیح بلیغ میں اس کی ایسی تفسیر لکھیں جو قرآنی علوم اور حقایق اور معارف پر مشتمل ہو اور پھر تین کس مولوی صاحبان جن کا ذکر پہلے اشتہار میں درج ہے۔قسم کھا کر ان دونوںتفسیروں میں سے ایک تفسیر کوترجیع دیں کہ اس کی عربی نہایت عمدہ اور اس کے معارف نہایت اعلیٰ درجہ کے ہیں۔پس اگر پیر صاحب کی عربی کو ترجیح دی گئی تو مَیںسمجھ لوں گا کہ خدا میرے ساتھ نہیں ہے تب اُن کے غلبہ کا اقرار کروں گا اور اپنے تئیں کاذب سمجھوں گا اور اس طرح پر فتنہ جو ترقی پر ہے فرو ہوجائے گا۔اور اگر مَیں غالب رہا تو پھر میرا دعویٰ مان لینا چاہیے۔اب ناظرین خود سوچ سکتے ہیں کہ اس طرح سے بڑی صفائی سے فیصلہ ہو سکتا تھا۔اور پیر صاحب کے لئے مفید تھا کیونکہ قسم کھانے والا جس کے فیصلہ پر حصر رکھا گیا تھا وہ مولوی محمد حسین بٹالوی ہے اور دواُن کے اَور رفیق تھے۔مگر پیر صاحب نے اس دعوت کو قبول نہ کیا اور اس کے جواب میں یہ اشتہار بھیجا کہ پہلے نصوص قرآنیہ حدیثیہ کے رو سے مباحثہ ہونا چاہیے اور اس مباحثہ کے حَکَمْ وہی مولوی محمد حسین