مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 131
بہر حال اب مجھے معلوم ہوا ہے کہ لاہور کے گلی کوچے میں پیر صاحب کے مرید اور ہم مشرب شہرت دے رہے ہیں کہ پیر صاحب تو بالمقابل تفسیر لکھنے کے لئے لاہور پہنچ گئے تھے مگر مرزا بھاگ گیا اور نہیں آیا۔اس لئے پھر عام لوگوں کو اطلاع دی جاتی ہے کہ یہ تمام باتیں خلاف واقعہ ہیں بلکہ خود پیر صاحب بھاگ گئے ہیں۔اور بالمقابل تفسیر لکھنا منظور نہیں کیا اور نہ ان میں یہ مادہ اور نہ خدا کی طرف سے تائید ہے۔اور مَیں بہرحال لاہور پہنچ جاتا۔مگر مَیں نے سُنا ہے کہ اکثر پشاور کے جاہل سرحدی پیر صاحب کے ساتھ ہیں۔اور ایسا ہی لاہور کے اکثر سفلہ اور کمینہ طبع لوگ گلی کوچوں میں مستوں کی طرح گالیاں دیتے پھرتے ہیں اور نیز مخالف مولوی بڑے جوشوں سے وعظ کر رہے ہیں کہ یہ شخص واجب القتل ہے۔تو اس صورت میں لاہور میں جانا بغیر کسی احسن انتظام کے کس طرح مناسب ہے۔ان لوگوں کا جوش اس قدر بڑھ گیا ہے کہ بعض کارڈ گندی گالیوں کے ان لوگوں کی طرف سے مجھے پہنچے ہیں جو چوہڑوں چمارون کی گالیوں سے بھی فحش گوئی میں زیادہ ہیں جو میرے پاس محفوظ ہیں۔بعض تحریروں میں قتل کی دھمکی دی ہے۔یہ سب کاغذات حفاظت سے رکھے گئے ہیں۔مگر باوجود اس کے اس درجہ کی گندہ زبانی کو ان لوگوں نے استعمال کیا ہے کہ مجھے امید نہیں کہ اس قدر گندہ زبانی ابوجہل نے آنحضرت صلے اللہ وعلیہ وسلم کے مقابل پر یا فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السّلام کے مقابلے پر دکھلائی ہو۔پھر بھی اگر پیر صاحب نے اپنی نیّت کو درست کر لیا ہے اور سیدھے طور پر بغیر زیادہ کرنے کسی شرط کے وہ میرے مقابل پر عربی میں تفسیر لکھنے کے لئے طیار ہو گئے ہیں تو مَیں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مَیںبہرحال اس مقابلے کے لئے جو محض بالمقابل عربی تفسیر لکھنے میں ہو گا لاہور میں اپنے تئیں پہنچائوں گا صرف دو امر کا خواہشمند ہوں جن پر لاہور میں میر ا پہنچنا موقوف ہے۔(۱)اوّل یہ کہ پیر صاحب سیدھی اور صاف عبارت میں بغیر کسی پیچ ڈالنے یا زیادہ شرط لکھنے کے اس مضمون کا اشتہار اپنے نام پر شائع کردیں جس پر پانچ لاہور کے معزز اور مشہور ارکان کے دستخط بھی ہوں کہ مَیں نے قبول کر لیا کہ مَیں بالمقابل مرزا غلام احمد قادیانی کے عربی فصیح بلیغ میں تفسیر قرآن شریف