مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 68
مجموعہ اشتہارات ۶۸ جلد دوم بڑے محقق انگریزوں نے بھی یہی رائے لکھی ہے اور وہ کتابیں مدت دراز پہلے ہماری اس تالیف سے برٹش انڈیا میں تالیف ہو کر شائع بھی ہو چکی ہیں چنانچہ میں نے بطور نمونہ پادری ہیوز کی ڈکشنری کے چند اوراق انگریزی اس رسالہ کے آخر میں شامل کر دیئے ہیں جن میں پادری صاحب موصوف بڑے دعویٰ سے باوا صاحب کا اسلام ظاہر کرتے ہیں اور یہ ڈکشنری تمام برٹش انڈیا میں خوب شائع ہو چکی ہے سکھ صاحبان بھی اس سے بے خبر نہیں ہیں اس صورت میں یہ خیال کرنا کہ اس رائے میں میں ہی اکیلا ہوں یا میں نے ہی پہلے اس رائے کا اظہار کیا ہے یہ بڑی غلطی ہے ہاں میں نے وہ تمام دلائل جو دوسروں کو نہیں مل سکے اس کتاب میں اکٹھے کر کے لکھ دیئے ہیں جن محقق انگریزوں نے مجھ سے پہلے یہ رائے ظاہر کی کہ باوا صاحب در حقیقت مسلمان تھے ان کے پاس کامل دلائل کا ذخیرہ نہ تھا مگر میری تحقیق سے یہ امر بدیہی طور پر کھل گیا اور میں امید رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ عالیہ پادری ہیوز کی اس رائے پر جو بزبان انگریزی کتاب ہذا کے آخر میں شامل ہے توجہ فرمادے اور میں سکھ صاحبوں سے اس بات میں اتفاق رکھتا ہوں کہ بابا صاحب در حقیقت خدا تعالیٰ کے مقبول بندوں میں سے تھے اور ان میں سے تھے جن پر الہی برکتیں نازل ہوتی ہیں اور جو خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے صاف کئے جاتے ہیں اور میں ان لوگوں کو شریر اور کمین طبع سمجھتا ہوں کہ ایسے بابرکت لوگوں کو تو ہین اور ناپا کی کے الفاظ کے ساتھ یاد کریں ہاں میں نے تحقیق کے بعد وہ پاک مذہب جس سے بچے خدا کا پتہ لگتا ہے اور جو تو حید کے بیان میں قانون قدرت کا ہم زبان ہے اسلام کو ہی پایا ہے سو میں خوش ہوں کہ جس دولت اور صاف روشنی کو مجھے دیا گیا مجھ سے پہلے خدا تعالیٰ کے فضل اور عنایت نے باوا صاحب کو بھی وہی دولت دی سو یہ ایک سچائی ہے جس کو میں چھپا نہیں سکتا اور میں اپنا اور باوا صاحب کا اس میں فخر سمجھتا ہوں کہ یہ پاک تو حید خدا کے فضل نے ہمیں دی۔ــار غلام احمد قادیانی ۲۰ نومبر ۱۸۹۵ء یہ اشتہا رست بچن طبع اول کے ٹائٹل پر ہے ) (روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۱۱۱)