مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 67 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 67

مجموعہ اشتہارات ۱۴۴ جلد دوم لائق توجہ گورنمنٹ چونکہ سکھ صاحبوں کے بعض اخبار نے اپنی غلط فہمی سے ہمارے رسالہ ست بچن کو ایسا خیال کیا ہے کہ گویا ہم نے وہ رسالہ کسی بدنیتی اور دل آزاری کی نیت سے تالیف کیا ہے اس لئے ہم گورنمنٹ کے حضور میں اس بات کو ظاہر کرنا مناسب سمجھتے ہیں کہ یہ رسالہ جوست بچن کے نام سے موسوم ہے نہایت نیک نیتی اور پوری پوری تحقیق کی پابندی سے لکھا گیا ہے۔اصل غرض اس رسالہ کی ان بیجا الزاموں کا رفع دفع کرنا ہے جو آریوں کے سرگروہ دیانند پنڈت نے بابا نانک صاحب پر اپنی کتاب ستیارتھ پر کاش میں لگائے ہیں اور نہایت نالائق لفظوں اور تحقیر آمیز فقروں میں باوا صاحب موصوف کی تو ہین اور تحقیر کی ہے پھر اس کے ساتھ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ نہایت قوی اور مضبوط دلائل سے ثابت ہو گیا ہے کہ باوا صاحب اپنے کمال معرفت اور گیان کی وجہ سے ہندوؤں کے ویدوں سے بالکل الگ ہو گئے تھے اور انہوں نے دیکھا کہ جس خدا کی خوبیوں میں کوئی نقص اور کسی عیب کی تاریکی نہیں اور ہر یک جلال اور قدرت اور تقدس اور کامل الوہیت کی بے انتہا چمکیں اس میں پائی جاتی ہیں۔وہ وہی پاک ذات خدا ہے جس پر اہل اسلام عقیدہ رکھتے ہیں۔اس لئے انہوں نے اپنی کمال خدا ترسی کی وجہ سے اپنا عقیدہ اسلام ٹھہرایا چنانچہ یہ تمام وجوہات ہم اس رسالہ میں لکھ چکے ہیں اور ایسے واضح اور بدیہی طور پر یہ ثبوت دے چکے ہیں کہ بغیر اس کے ماننے کے انسان کو بن نہیں پڑتا اور ماسوائے اس کے یہ رائے کہ باوا صاحب اپنی باطنی صفائی اور اپنی پاک زندگی کی وجہ سے مذہب اسلام کو قبول کر چکے تھے صرف ہماری ہی رائے نہیں بلکہ ہماری اس کتاب سے پہلے بڑے