مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 591 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 591

مجموعہ اشتہارات ۵۹۱ جلد دوم اب سوچو کہ کیا وہ سلسلہ بند کیا گیا یا نہیں اور کیا وہ شیطانی کا رروائیاں جو نا پاک زندگی کا خاصہ ہوتی ہیں جن کی بے جا غلو سے پاک دامن بیویوں آل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر گندہ زبانی کے حملے کرنے کی نوبت پہنچ گئی تھی کیا یہ پلید اور بے حیائی کے طریق جو محمد حسین اور اس کے دوست جعفر زٹلی نے اختیار کئے تھے حاکم مجاز کے حکم سے رو کے گئے یا نہیں اور کیا یہ گندہ زبانی کی عادت جس کو کسی طرح یہ لوگ چھوڑنا نہیں چاہتے تھے چھوڑا ئی گئی یا نہیں۔پس ایک عقل مند انسان کے لئے یہ ذلت کچھ تھوڑی نہیں کہ اس کے خلاف تہذیب اور بے حیائی اور سفلہ پن کی عادات کے کاغذات عدالت میں پیش کئے جائیں اور پڑھے جائیں اور عام اجلاس میں سب پر یہ بات کھلے اور ہزار ہا لوگوں میں شہرت پاوے کہ مولوی کہلا کر ان لوگوں کی یہ تہذیب اور یہ شائستگی ہے۔اب خود سوچ لو کہ کیا اس حد تک کسی شخص کی گندی کارروائیاں گندی عادات گندے اخلاق حکام اور پبلک پر ظاہر ہونا کیا یہ عزت ہے یا بے عزتی ؟ اور کیا ایسے نفرتی اور نا پاک شیوہ پر عدالت کی طرف سے مواخذہ ہونا یہ کچھ سرفرازی کا موجب ہے یا شانِ مولویت کو اس سے ذلت کا دھبہ لگتا ہے۔اگر ہمارے معترضوں میں حقائق شناسی کا کانشنس کچھ باقی رہتا تو ایسا صریح باطل اعتراض ہرگز پیش نہ کرتے کہ ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء کے اشتہار کی ذلت کی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی کیونکہ یہ پیشگوئی تو ایسے زور شور سے پوری ہوگئی کہ عدالت کے کمرہ میں ہی لوگ بول اُٹھے کہ آج خدا کا فرمودہ پورا ہو گیا۔صد ہا لوگوں کو یہ بات معلوم ہوگی کہ جب محمد حسین کو یہ فہمالیش کی گئی کہ آئندہ ایسی گندی تحریر میں شائع نہ کرے اور کافر اور دجال اور کا ذب بھی نہ کہے تو مسٹر برون صاحب ہمارا وکیل بھی بے اختیار بول اُٹھا کہ پیشگوئی پوری ہوگئی۔یادر ہے کہ موجودہ کا غذات کے رُو سے جو عدالت کے سامنے تھے عدالت نے یہ معلوم کر لیا تھا کہ محمدحسین نے مع جعفر زٹلی کے یہ زیادتی کی ہے کہ مجھے نہایت گندی گالیاں دی ہیں اور میرے پرائیویٹ تعلقات میں سفلہ پن سے گندہ دہانی ظاہر کی ہے یہاں تک کہ تصویر میں چھاپی ہیں لیکن عدالت نے احتیاطاً آئندہ کی روک کے لئے اس نوٹس میں فریقین کو