مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 590
مجموعہ اشتہارات ۵۹۰ جلد دوم پیشگوئی کا منشا تھا کہ ان سب کے منہ میں لگام دی گئی اور درحقیقت اس الہام کی تشریح جوا۲ نومبر ۱۸۹۸ء کو ہوا اس الہام نے دوبارہ کر دی ہے جو بتاریخ ۲۱ رفروری ۱۸۹۹ء رسالہ حقیقت المہدی میں شائع کیا گیا۔بلکہ عجیب تر بات یہ ہے کہ ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء کے اشتہار میں جو الہام شائع ہوا تھا اس میں ایک یہ فقرہ تھا کہ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيْهِ اور پھر یہی فقرہ ۲۱ فروری ۱۸۹۹ء کے الہام میں بھی جو ا۲ نومبر ۱۸۹۸ء کے الہام کے لئے بطور شرح کے آیا ہے جیسا کہ رسالہ حقیقت المہدی کے صفحہ ۱۲ سے ظاہر ہے۔پس ان دونوں الہاموں کے مقابلہ سے ظاہر ہوگا کہ یہ دوسرا الہام جو ۲۱ / نومبر ۱۸۹۸ء کے الہام سے قریباً تین ماہ بعد ہوا ہے اس پہلے الہام کی تشریح کرتا ہے اور اس بات کو کھول کر بیان کرتا ہے کہ وہ ذلّت جس کا وعدہ اشتہا ر ۲۱ رنومبر ۱۸۹۸ء میں تھا وہ کس رنگ میں پوری ہو گی۔اسی غرض سے یہ مؤخر الذکر الہام جو ۲۱ فروری ۱۸۹۹ء کو ہوا پہلے الہام کے ایک فقرہ کا اعادہ کر کے ایک اور فقرہ بطور تشریح اس کے ساتھ بیان کرتا ہے یعنی پہلا الهام جو اشتہا ر ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء میں درج ہے جو محمد حسین اور جعفر زٹلی اور ابوالحسن تبتی کی ذلت کی پیشگوئی کرتا ہے اس میں یہ فقرہ تھا کہ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيْهِ یعنی ظالم اپنے ہاتھ کاٹے گا اور دوسرے الہام میں جو ۲۱ فروری ۱۸۹۹ء میں بذریعہ رسالہ حقیقت المہدی شائع ہوا اس میں یہی فقرہ ایک زیادہ فقرہ کے ساتھ اس طرح پر لکھا گیا ہے يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيْهِ وَ يُؤْثِقُ اور اس فقرہ کے معنے اسی رسالہ حقیقت المہدی کے صفحہ ۱۲ کی اخیر سطر اور صفحہ ۱۳ کی پہلی سطر میں یہ بیان کئے گئے ہیں۔ظالم اپنے ہاتھ کاٹے گا اور اپنی شرارتوں سے روکا جائے گا۔اب دیکھو کہ اس تشریح میں صاف بتلایا گیا ہے کہ ذلت کس قسم کی ہوگی یعنی یہ ذلت ہوگی کہ محمد حسین اور جعفر زٹلی اور ابوالحسن تبتی اپنی گندی اور بے حیائی کی تحریروں سے روکے جائیں گے اور جوسلسلہ انہوں نے گالیاں دینے اور بے حیائی کے بے جا حملوں اور ہماری پرائیویٹ زندگی اور خاندانی تعلقات کی نسبت نہایت درجہ کی کمینہ پن کی شرارت اور بد زبانی اور افترا اور جھوٹ سے شائع کیا تھا وہ جبر ابند کیا جائے گا۔