مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 592 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 592

مجموعہ اشتہارات ۵۹۲ جلد دوم شامل کر لیا تا اس طریق سے بکلی سد باب کرے۔مسٹر جے۔ایم ڈوئی صاحب زندہ موجود ہیں جن کے سامنے یہ کا غذات پیش ہوئے تھے اور اب تک وہ مثل موجود ہے جس میں وہ تمام کاغذات نتھی کئے گئے۔کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ عدالت میں محمد حسین کی طرف سے بھی کوئی ایسے کاغذات پیش ہوئے جن میں میں نے بھی سفلہ پن کی راہ سے گندی تحریر میں شایع کی ہوں۔عدالت نے اپنے نوٹس میں قبول کر لیا ہے کہ ان گندی تحریروں کے مقابل پر جو سراسر حیا اور تہذیب کے مخالف تھیں میری طرف سے صرف یہ کارروائی ہوئی کہ میں نے جناب الہی میں اپیل کیا۔اب ظاہر ہے کہ ایک شریف کے لئے یہ حالت موت سے بدتر ہے کہ اس کا یہ رویہ عدالت پر کھل جائے کہ وہ ایسی گندہ زبانی کی عادت رکھتا ہے بلکہ ایک شریف تو اس خجالت سے جیتا ہی مر جاتا ہے کہ حاکم مجاز عدالت کی کرسی پر اس کو یہ کہے کہ یہ کیا گندہ طریق ہے جو تو نے اختیار کیا اور ان کا رروائیوں کا نتیجہ ذلت ہونا یہ تو ایک ادنی امر ہے۔خود پولیس کے افسر جنہوں نے مقدمہ اُٹھایا تھا ان سے پوچھنا چاہیے کہ اس کارروائی کے دوران میں جبکہ وہ محمد حسین اور جعفر زٹلی کی گندہ زبانی کے کاغذات پیش کر رہے تھے کیا میری گندہ زبانی کا بھی کوئی کاغذان کو ملا جس کو انہوں نے عدالت میں پیش کیا اور چاہو تو محمد حسین کو حلفاً پوچھ کر دیکھ لو کہ کیا جو واقعات عدالت میں تم پر گزرے اور جبکہ عدالت نے تم سے سوالات کئے کہ کیا یہ گندی تحریریں تمہاری تحریریں ہیں اور کیا جعفر زٹلی سے تمہارا کچھ تعلق ہے یا نہیں تو ان سوالات کے وقت تمہارے دل کا کیا حال تھا۔کیا اُس وقت تمہارا دل حاکم کے ان سوالات کو اپنی عزت سمجھتا تھا یا ذلّت سمجھ کر غرق ہوتا جاتا تھا۔اگر اتنے واقعات کے جمع ہونے سے جو ہم لکھ چکے ہیں پھر بھی ذلّت نہیں ہوئی اور عزت میں کچھ بھی فرق نہیں آیا تو ہمیں اقرار کرنا پڑے گا کہ آپ لوگوں کی عزت بڑی پکی ہے۔پھر ماسوا اس کے ۲۱ رنومبر ۱۸۹۸ء کے اشتہار کی میعاد کے اندر کئی اور ایسے امور بھی ظاہر ہوئے ہیں جن سے بلا شبہ مولوی محمد حسین صاحب کی عالمانہ عزت میں اس قدر فرق آیا ہے کہ گویا وہ خاک میں مل گئی ہے۔از انجملہ ایک یہ ہے کہ مولوی صاحب موصوف نے پر چہ پیسہ اخبار