مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 589
مجموعہ اشتہارات ۵۸۹ جلد دوم خود کافر ہیں۔سوئیں ان کو کافر نہیں کہتا بلکہ وہ مجھ کو کافر کہہ کر خود فتوی نبوی کے نیچے آتے ہیں۔سو اگر مسٹر ڈوئی صاحب کے رو برومیں نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ میں اُن کو کا فرنہیں کہوں گا تو واقعی میرا یہی مذہب ہے کہ میں کسی مسلمان کو کافر نہیں جانتا ہاں یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ جو شخص مسلمان ہوکر ایک بچے ولی اللہ کے دشمن بن جاتے ہیں ان سے نیک عملوں کی تو فیق چھین لی جاتی اور دن بدن اُن کے دل کا نور کم ہوتا جاتا یہاں تک کہ ایک دن چراغ سحری کی طرح گل ہو جاتا ہے۔سو یہ میرا عقیدہ اپنی طرف سے نہیں ہے بلکہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے۔غرض جس شخص نے ناحق جوش میں آکر مجھے کوکا فر قرار دیا اور میرے لئے فتوی طیار کیا کہ یہ شخص کا فر دجال کذاب ہے اس نے خدا تعالیٰ کے حکم سے تو کچھ خوف نہ کیا کہ وہ اہل قبلہ اور کلمہ گو کو کیوں کافر بناتا ہے اور ہزار ہا بندگان خدا کو جو کتاب اللہ کے تابع اور شعار اسلام ظاہر کرتے ہیں کیوں دائرہ اسلام سے خارج کرتا ہے لیکن مجسٹریٹ ضلع کی ایک دھمکی سے ہمیشہ کے لئے یہ قبول کر لیا کہ میں آئندہ ان کو کافر اور دجال اور کذاب نہیں کہوں گا اور آپ ہی فتویٰ طیار کیا اور آپ ہی حکام کے خوف سے منسوخ کر دیا اور ساتھ ہی جعفر زٹلی وغیرہ کی قلمیں ٹوٹ گئیں اور با ایں ہمہ رسوائی پھر محمد حسین نے اپنے دوستوں کے پاس یہ ظاہر کیا کہ فیصلہ میری منشاء کے موافق ہوا ہے۔لیکن سوچ کر دیکھو کہ کیا محمد حسین کا یہی منشاء تھا کہ آئندہ مجھے کا فرنہ کہے اور تکذیب نہ کرے اور ان باتوں سے تو بہ کر کے اپنا منہ بند کر لے اور کیا جعفر زٹلی یہ چاہتا تھا کہ اپنی گندی تحریروں سے باز آ جائے ؟ پس اگر یہ وہی بات نہیں جو اشتہار ۱۸۹۸ء کی پیشگوئی پوری ہوگئی اور خدا نے میرے ذلیل کرنے والے کو ذلیل کیا ہے تو اور کیا ہے؟ جس شخص نے اپنے رسالوں میں یہ عہد شائع کیا تھا کہ میں اس شخص کو مرتے دم تک کا فراور دقبال کہتا رہوں گا جب تک وہ میرا مذ ہب قبول نہ کرے تو اس میں اس کی کیا عزت رہی جو اس عہد کو اُس نے توڑ دیا۔اور وہ جعفر زٹلی جو گندی گالیوں سے کسی طرح باز نہیں آتا تھا اگر ذلت کی موت اس پر وارد نہیں ہوئی تو اب کیوں نہیں گالیاں نکالتا اور اب ابوالحسن تبتی کہاں ہے اس کی زبان کیوں بند ہوگئی۔کیا اس کے گندے ارادوں پر کوئی انقلاب نہیں آیا۔پس یہی تو وہ ذلت ہے جو