مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 377
مجموعہ اشتہارات جلد دوم لوگوں کے گناہوں کے سبب سے خدا کی نظر میں لعنتی ٹھہر گئے تھے کیونکہ لعنت کے معنے لغت کے رو سے یہ ہیں کہ خدا اس شخص سے جس پر لعنت کی گئی ہے بیزار ہو جائے اور وہ شخص خدا سے بیزار ہو جائے اور دونوں میں باہم دشمنی واقع ہو جائے۔اور شخص ملعون خدا کے قرب سے دور جا پڑے۔اور یہ ذلیل حالت ایسے شخص کی کبھی نہیں ہوسکتی جو درحقیقت خدا کا پیارا ہے۔اور جب کہ لعنت جائز نہ ہوئی تو کفارہ باطل ہوا۔غرض ایسے اعتراض جن میں معقول تقریر کے ساتھ کسی فرقہ کے عقائد کی غلطی کا اظہار ہو، ہر ایک محقق کا حق ہے جو نرمی اور ادب کے ساتھ پیش کرے اور حتی الوسع یہ کوشش ہو کہ وہ تمام اعتراضات علمی رنگ میں ہوں تا لوگوں کو ان سے فائدہ پہنچ سکے اور کوئی مفسدہ اور اشتعال پیدا نہ ہو۔اور یہ خدا تعالیٰ کا شکر کرنے کا مقام ہے کہ ہم لوگ جو مسلمان ہیں ہمارے اصول میں یہ داخل ہے کہ گذشتہ نبیوں میں سے جن کے فرقے اور قو میں اور اُمتیں بکثرت دنیا میں پھیل گئی ہیں کسی نبی کی تکذیب نہ کریں کیونکہ ہمارے اسلامی اصول کے موافق خدا تعالیٰ مفتری کو ہرگز یہ عزت نہیں بخشا کہ وہ ایک سچے نبی کی طرح مقبول خلائق ہوکر ہزار ہا فرقے اور قو میں اس کو مان لیں اور اس کا دین زمین پر جم جاوے اور عمر پائے لہذا ہمارا یہ فرض ہونا چاہیے کہ ہم تمام قوموں کے نبیوں کو جنہوں نے خدا کے الہام کا دعویٰ کیا اور مقبول خلائق ہو گئے اور ان کا دین زمین پر جم گیا خواہ وہ ہندی تھے یا فارسی۔چینی تھے یا عبرانی خواہ کسی اور قوم میں سے تھے در حقیقت سچے رسول مان لیں۔اور اگر ان کی امتوں میں کوئی خلاف حق باتیں پھیل گئی ہوں تو ان باتوں کو ایسی غلطیاں قرار دیں جو بعد میں داخل ہو گئیں۔یہ اصول ایک ایسا دلکش اور پیارا ہے جس کی برکت سے انسان ہر ایک قسم کی بدزبانی اور بدتہذیبی سے بچ جاتا ہے اور درحقیقت واقعی امر یہی ہے کہ جھوٹے نبی کو خدا تعالیٰ اپنے کروڑ ہا بندوں میں ہرگز قبولیت نہیں بخشا اور اُس کو وہ عزت نہیں دیتا جو بچوں کو دی جاتی ہے اور صدیوں اور زمانوں میں اس کی