مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 378
مجموعہ اشتہارات ۳۷۸ جلد دوم قبولیت ہرگز قائم نہیں رہ سکتی بلکہ بہت جلد اس کی جماعت متفرق ہو جاتی اور اس کا سلسلہ درہم برہم ہو جاتا ہے۔سواے دوستو اس اصول کو محکم پکڑو۔ہر ایک قوم کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ۔نرمی سے عقل بڑھتی ہے اور بُردباری سے گہرے خیال پیدا ہوتے ہیں۔اور جو شخص یہ طریق اختیار نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔اگر کوئی ہماری جماعت میں سے مخالفوں کی گالیوں اور سخت گوئی پر صبر نہ کر سکے تو اس کا اختیار ہے کہ عدالت کے رو سے چارہ جوئی کرے۔مگر یہ مناسب نہیں ہے کہ سختی کے مقابل پرختی کر کے کسی مَفْسَدَہ کو پیدا کریں۔یہ تو وہ وصیت ہے جو ہم نے اپنی جماعت کو کر دی۔اور ہم ایسے شخص سے بیزار ہیں اور اس کو اپنی جماعت سے خارج کرتے ہیں جو اس پر عمل نہ کرے۔مگر ہم اپنی عادل گورنمنٹ سے یہ بھی امید رکھتے ہیں کہ جو لوگ آئندہ مخالفانہ حملے تو ہین اور بد زبانی کے ساتھ ہم پر کریں یا ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یا قرآن شریف پر یا اسلام پر تو ان کی بدزبانی کا تدارک بھی واجب طور پر کیا جائے۔اور ہم لکھ چکے ہیں اور پھر دوبارہ لکھتے ہیں کہ ہماری یہ جماعت گورنمنٹ انگریزی کی سچی خیر خواہ ہے اور ہمیشہ خیر خواہ رہے گی۔اور میری تمام جماعت کے لوگ در حقیقت غریب مزاج اور امن پسند اور اول درجہ کے خیر خواہ سر کا رانگریزی ہیں۔اور با ایں ہمہ معزز اور شریف ہیں۔اور بعض نادانوں کا یہ خیال کہ گویا میں نے افترا کے طور پر الہام کا دعوی کیا ہے غلط ہے بلکہ در حقیقت یہ کام اس قادر خدا کا ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور اس جہان کو بنایا ہے۔جس زمانہ میں لوگوں کا ایمان خدا پر کم ہو جاتا ہے اس وقت میرے جیسا ایک انسان پیدا کیا جاتا ہے اور خدا اس سے ہمکلام ہوتا ہے اور اس کے ذریعہ سے اپنے عجائب کام دکھلاتا ہے۔یہاں تک کہ لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ خدا ہے۔میں عام اطلاع دیتا ہوں کہ کوئی انسان خواہ