مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 376 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 376

مجموعہ اشتہارات جلد دوم کو بذریعہ اس نوٹس کے عام اطلاع دی جاتی ہے کہ اس فیصلہ کے بعد وہ بھی مباحثات میں اپنی روشیں بدلا لیں۔اور آئندہ سخت اور جوش پیدا کرنے والے الفاظ اور ہتک آمیز الفاظ اپنے اخباروں اور رسالوں میں ہرگز استعمال نہ کریں۔اور اگر اب بھی اس نوٹس کے شائع ہونے کے بعد انہوں نے اپنے سابق طریق کو نہ چھوڑا تو انہیں یا در ہے کہ ہمیں یا ہم میں سے کسی کو حق حاصل ہوگا کہ بذریعہ عدالت چارہ جوئی کریں۔حفظ امن کے لئے ہر ایک قوم کا فرض ہے کہ فتنہ انگیز تحریروں سے اپنے تئیں بچائے پس جو شخص اس نوٹس کے شائع ہونے کے بعد بھی اپنے تئیں سخت الفاظ اور بد زبانی اور توہین سے روک نہ سکے ایسا شخص در حقیقت گورنمنٹ کے مقاصد کادشمن اور فتنہ پسند آدمی ہے۔اور عدالت کا فرض ہوگا کہ امن کو قائم رکھنے کے لئے اس کی گوشمالی کرے۔بحث کرنے والوں کے لئے یہ بہتر طریق ہوگا کہ کسی مذہب پر بے ہودہ طور پر اعتراض نہ کریں بلکہ ان کی مسلّم اور معتبر کتابوں کی رو سے ادب کے ساتھ اپنے شبہات پیش کریں اور ٹھٹھے اور ہنسی اور تو ہین سے اپنے تئیں بچاویں اور مباحثات میں حکیمانہ طرز اختیار کریں اور ایسے اعتراض بھی نہ کریں جو ان کی کتابوں میں پائے جاتے ہیں۔مثلا اگر ایک مسلمان عیسائی عقیدہ پر اعتراض کرے تو اس کو چاہیے کہ اعتراض میں حضرت عیسی علیہ السلام کی شان اور عظمت کا پاس رکھے اور ان کی وجاہت اور مرتبہ کو نہ بھلاوے۔ہاں وہ نہایت نرمی اور ادب سے اس طرح اعتراض کر سکتا ہے کہ خدا نے جو بیٹے کو دنیا میں بھیجا تو کیا یہ کام اس نے اپنی قدیم عادت کے موافق کیا یا خلاف عادت؟ اگر عادت کے موافق کیا تو پہلے بھی کئی بیٹے اس کے دنیا میں آئے ہوں گے اور مصلوب بھی ہوئے ہوں گے یا ایک ہی بیٹا بار بار آیا ہوگا۔اور اگر یہ کام خلاف دت ہے تو خدا کی طرف منسوب نہیں ہو سکتا۔کیونکہ خدا اپنی ازلی ابدی عادتوں کو کبھی نہیں چھوڑتا۔یا مثلاً یہ اعتراض کر سکتا ہے کہ یہ عقیدہ صحیح نہیں ہے کہ نعوذ باللہ حضرت عیسی علیہ السلام عادت