مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 342 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 342

مجموعہ اشتہارات ۳۴۲ جلد دوم پھر یہ بھی سوچو کہ جس حالت میں میں وہ شخص ہوں جو اس مسیح موعود ہونے کا دعویٰ رکھتا ہوں جس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ” وہ تمہار امام اور خلیفہ ہے اور اس پر خدا اور اس کے نبی کا سلام ہے اور اس کا دشمن لعنتی اور اس کا دوست خدا کا دوست ہے اور وہ تمام دنیا کے لئے حكم ہو کر آئے گا اور اپنے تمام قول اور فعل میں عادل ہوگا۔تو کیا یہ تقویٰ کا طریق تھا کہ میرے دعوی کوسن کر اور میرے نشانوں کو دیکھ کر اور میرے ثبوتوں کا مشاہدہ کر کے مجھے یہ صلہ دیتے کہ گندی گالیاں اور ٹھٹھے اور ہنسی سے پیش آتے ؟ کیا نشان ظاہر نہیں ہوئے ؟ کیا آسمانی تائید میں ظہور میں نہیں آئیں؟ کیا اُن سب وقتوں اور موسموں کا پتہ نہیں لگ گیا جوا حادیث اور آثار میں بیان کی گئی تھیں؟ تو پھر اس قدر کیوں بیبا کی دکھلائی گئی؟ ہاں اگر میرے دعوئی میں اب بھی شک تھا یا میرے دلائل اور نشانوں میں کچھ شبہ تھا تو غربت اور نیک نیتی اور خدا ترسی سے اس شبہ کو دور کرایا ہوتا۔مگر انہوں نے بجائے تحقیق اور تفتیش کے اس قدر گالیاں اور لعنتیں بھیجیں کہ شیعوں کوبھی پیچھے ڈال دیا۔کیا یہ مکن نہ تھا کہ جو کچھ میں نے رومی سلطنت کے اندرونی نظام کی نسبت بیان کیا وہ دراصل صحیح ہو اور ترکی گورنمنٹ کے شیرازہ میں ایسے دھاگے بھی ہوں جو وقت پر ٹوٹنے والے اور غداری سرشت ظاہر کرنے والے ہوں۔پھر ماسوا اس کے میرے مخالف اپنے دلوں میں آپ ہی سوچیں کہ اگر میں درحقیقت وہی مسیح موعود ہوں جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک باز و قرار دیا ہے اور جس کو سلام بھیجا ہے اور جس کا نام حکم اور عدل اور امام اور خلیفہ اللہ رکھا ہے تو کیا ایسے شخص پر ایک معمولی بادشاہ کے لئے لعنتیں بھیجنا اس کو گالیاں دینا جائز تھا؟ ذرہ اپنے جوش کو تھام کے سوچیں نہ میرے لئے بلکہ اللہ اور رسول کے لیے کہ کیا ایسے مدعی کے ساتھ ایسا کرنا روا تھا؟ میں زیادہ کہنا نہیں چاہتا۔کیونکہ میرا مقدمہ تم سب کے ساتھ آسمان پر ہے۔اگر میں وہی ہوں جس کا وعدہ نبی کے پاک لبوں نے کیا تھا تو تم نے نہ میرا بلکہ خدا کا گناہ کیا ہے۔اور اگر پہلے سے آثار صحیحہ میں یہ وارد نہ ہوتا کہ اس کو دکھ دیا جائے گا اور اس پر لعنتیں بھیجی جائیں گی تو تم لوگوں کی مجال نہ تھی جو تم مجھے وہ دکھ دیتے جو تم نے دیا۔پر ضرور تھا کہ وہ سب نوشتے پورے ہوں جو خدا کی طرف سے لکھے گئے تھے اور اب تک تمہیں ملزم کرنے کے لئے