مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 341 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 341

مجموعہ اشتہارات ۳۴۱ جلد دوم لوگ تقویٰ اور طہارت اختیار کریں کیونکہ آسمانی قضا و قدر اور عذاب سماوی کے روکنے کے لئے تقویٰ اور تو بہ اور اعمال صالحہ جیسی اور کوئی چیز قوی تر نہیں۔مگر سلطان کے نادان خیر خواہوں نے بجائے اس کے مجھے گالیاں دینی شروع کر دیں اور بعضوں نے کہا کہ کیا سارے گناہ سلطان پر ٹوٹ پڑے اور یورپ مقدس اور پاک ہے جس کے عذاب کے لئے کوئی پیشگوئی نہیں کی جاتی۔مگر وہ نادان نہیں سمجھتے کہ سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ کفار کے فسق و فجور اور بت پرستی اور انسان پرستی کی سزا دینے کے لئے خدا تعالیٰ نے ایک دوسرا عالم رکھا ہوا ہے جو مرنے کے بعد پیش آئے گا اور ایسی قوموں کو جو خدا پر ایمان نہیں رکھتیں اسی دنیا میں مورد عذاب کرنا خدا تعالیٰ کی عادت نہیں ہے بجز اس صورت کہ وہ لوگ اپنے گناہ میں حد سے زیادہ تجاوز کریں اور خدا کی نظر میں سخت ظالم اور موذی اور مفسد ٹھیر جائیں جیسا کہ قوم نوح اور قوم لوط اور قوم فرعون وغیرہ مفسد قو میں متواتر بے باکیاں کر کے مستوجب سزا ہوگئی تھیں۔لیکن خدا تعالیٰ مسلمانوں کی بے باکی کی سزا کو دوسرے جہان پر نہیں چھوڑ تا بلکہ مسلمانوں کو ادنیٰ ادنی قصور کے وقت اسی دنیا میں تنبیہ کی جاتی ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے آگے ان بچوں کی طرح ہیں جن کی والدہ ہر دم جھڑ کیاں دے کر انہیں ادب سکھاتی ہے اور خدا تعالیٰ اپنی محبت سے چاہتا ہے کہ وہ اس ناپائیدار دنیا سے پاک ہو کر جائیں۔یہی باتیں تھیں کہ میں نے نیک نیتی سے سفیر روم پر ظاہر کی تھیں۔مگر افسوس کہ بے وقوف مسلمانوں نے ان باتوں کو اور طرف کھینچ لیا۔ان نادانوں کی ایسی مثال ہے کہ جیسے ایک حاذق ڈاکٹر کہ جو شخص امراض اور قواعد حفظ ما تقدم کو بخوبی جانتا ہے کہ وہ کسی شخص کی نسبت کمال نیک نیتی سے یہ رائے ظاہر کرے کہ اس کے پیٹ میں ایک قسم کی رسولی نے بڑھنا شروع کر دیا ہے اور اگر ابھی وہ رسولی کاٹی نہ جائے تو ایک عرصہ کے بعد اس شخص کی زندگی اُس کے لئے وبال ہو جائے گی۔تب اس بیمار کے وارث اس بات کو سن کر اُس ڈاکٹر پر سخت ناراض ہوں اور اُس ڈاکٹر کے قتل کر دینے کے درپے ہو جائیں مگر رسولی کا کچھ بھی فکر نہ کریں۔یہاں تک کہ وہ رسولی بڑھے اور پھولے اور تمام پیٹ میں پھیل جائے اور اُس بیچارے بیمار کی زندگی کا خاتمہ ہو جائے سو یہی مثال ان لوگوں کی ہے جو اپنی دانست میں سلطان کے خیر خواہ کہلاتے ہیں۔