مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 343 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 343

مجموعہ اشتہارات ۳۴۳ جلد دوم تمہاری کتابوں میں موجود ہیں جن کو تم زبان سے پڑھتے اور پھر تکفیر اور لعنت کر کے مہر لگا دیتے ہو کہ وہ بد علماء اور اُن کے دوست جو مہدی کی تکفیر کریں گے اور مسیح سے مقابلہ سے پیش آئیں گے وہ تم ہی ہو۔میں نے بار بار کہا کہ آؤ اپنے شکوک مثالو پر کوئی نہیں آیا۔میں نے فیصلہ کے لئے ہر ایک کو بلایا پر کسی نے اس طرف رخ نہیں کیا۔میں نے کہا کہ تم استخارہ کرو اور روروکر خدا تعالیٰ سے چاہو کہ وہ تم پر حقیقت کھولے پر تم نے کچھ نہ کیا اور تکذیب سے بھی باز نہ آئے۔خدا نے میری نسبت سچ کہا کہ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شخص در حقیقت سچا ہوا ور ضائع کیا جائے؟ کیا یہ ہوسکتا ہے کہ ایک شخص خدا کی طرف سے ہو اور برباد ہو جائے؟ پس اے لو گو تم خدا سے مت لڑو۔یہ وہ کام ہے جو خدا تمہارے لئے اور تمہارے ایمان کے لئے کرنا چاہتا ہے اس کے مزاحم مت ہو۔اگر تم بجلی کے سامنے کھڑے ہو سکتے ہومگر خدا کے سامنے تمہیں ہرگز طاقت نہیں۔اگر یہ کاروبار انسان کی طرف سے ہوتا تو تمہارے حملوں کی کچھ بھی حاجت نہ تھی۔خدا اُس کے نیست و نابود کرنے کے لئے خود کافی تھا۔افسوس کہ آسمان گواہی دے رہا ہے اور تم نہیں سنتے اور زمین ضرورت ضرورت بیان کر رہی ہے اور تم نہیں دیکھتے! اے بد بخت قوم اُٹھے اور دیکھ کہ اس مصیبت کے وقت میں جو اسلام پیروں کے نیچے کچلا گیا اور مجرموں کی طرح بے عزت کیا گیا۔وہ جھوٹوں میں شمار کیا گیاوہ ناپاکوں میں لکھا گیا تو کیا خدا کی غیرت ایسے وقت میں جوش نہ مارتی۔اب سمجھ 66 کہ آسمان جھکتا چلا آتا ہے اور وہ دن نزدیک ہیں کہ ہر ایک کان کو اَنَا الْمَوْجُود “ کی آواز آئے۔ہم نے کفار سے بہت کچھ دیکھا۔اب خدا بھی کچھ دکھلانا چاہتا ہے۔سواب تم دیدہ و دانستہ اپنے تیں مورد غضب مت بناؤ۔کیا صدی کا سر تم نے نہیں دیکھا؟ جس پر چودہ برس اور بھی گذر گئے۔کیا خسوف کسوف رمضان میں تمہاری آنکھوں کے سامنے نہیں ہوا؟۔کیا ستارہ ذوالسنین کے طلوع کی پیشگوئی